کتب حدیثالمنتقى ابن الجارودابوابباب: تکبیر اور قرأت کے درمیان خاموشی (ثنا) کا بیان
حدیث نمبر: 320
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : أَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَبَّرَ سَكَتَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ ، فَقُلْتُ لَهُ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، أَرَأَيْتَ سُكُوتَكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَةِ ؟ أَخْبِرْنِي مَا تَقُولُ ، قَالَ : " أَقُولُ : اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنْ خَطَايَايَ كَالثَّوْبِ الأَبْيَضِ مِنَ الدَّنَسِ ، اللَّهُمَّ اغْسِلْنِي مِنْ خَطَايَايَ بِالثَّلْجِ وَالْمَاءِ وَالْبَرَدِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر (تحریمہ) اور قرآت کے درمیان خاموش رہتے، میں نے آپ سے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، مجھے یہ بتائیں کہ تکبیر اور قرآت کے درمیان آپ جو سکوت فرماتے ہیں، اس میں کیا پڑھتے ہیں؟ فرمایا: میں یہ دُعا پڑھتا ہوں: اللہ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اتنی دوری ڈال دے، جتنی تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان ڈالی ہے، اللہ! مجھے گناہوں سے یوں صاف کر دے، جیسے سفید کپڑا میل سے صاف ہوتا ہے، اللہ! میرے گناہوں کو برف، پانی اور اولوں سے دھو دے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 320
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 744 ، صحيح مسلم : 598»