کتب حدیثالمنتقى ابن الجارودابوابباب: امام کے اونچی جگہ (چبوترے وغیرہ) پر کھڑے ہو کر نماز پڑھانے کا بیان
حدیث نمبر: 313
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : أَنَا عِيسَى ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامٍ ، قَالَ : " صَلَّى حُذَيْفَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى دُكَّانٍ بِالْمَدِينَةِ وَخَلْفَهُ أَبُو مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَأَخَذَ بِثَوْبِهِ ، فَاجْتَذَبَهُ ، فَلَمَّا صَلَّى ، قَالَ لَهُ أَبُو مَسْعُودٍ : أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ هَذَا يُكْرَهُ ؟ قَالَ : بَلَى أَلا تَرَانِي قَدْ ذَكَرْتُهُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
ہمام بن منبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مدینہ میں چبوترے پر نماز پڑھائی، سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ بھی ان کے پیچھے تھے، انہوں نے ان کا کپڑا پکڑ کر کھینچا، جب نماز سے فارغ ہوئے، تو سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ کہنے لگے: کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ایسے نماز پڑھنا مکروہ ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! کیا آپ دیکھتے نہیں کہ مجھے یاد آ گیا ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 313
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف له شاهد ضعيف
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده ضعيف له شاهد ضعيف : سنن أبي داود : 597، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (1523) امام ابن حبان رحمہ اللہ (2143) اور امام حاکم رحمہ اللہ (1/210) نے صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔ اعمش مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں مل سکی۔»
حدیث نمبر: 314
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : ثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ عَمِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ أَنَا وَيَتِيمٌ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَصَلَّتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مِنْ وَرَائِنَا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اور ایک یتیم بچے نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے (کھڑے ہو کر) نماز پڑھی اور ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ہمارے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھی۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 314
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 727 ، صحيح مسلم : 658»
حدیث نمبر: 315
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ مَنَاكِبَنَا فِي الصَّلاةِ ، وَيَقُولُ : " اسْتَووا وَلا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عقبہ بن عمر و رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں (کھڑے ہوتے وقت) ہمارے کندھوں کو پکڑ کر فرمایا کرتے تھے: برابر ہو جائیں اور صف میں اختلاف نہ کریں (آگے پیچھے کھڑے نہ ہو) اس طرح تمہارے دلوں میں اختلاف پیدا ہو جائے گا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 315
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح مسلم : 432»
حدیث نمبر: 316
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ : ثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : ثَنِي طَلْحَةُ بْنُ مُصَرِّفٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْسَجَةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : كَانَ يَأْتِينَا إِذَا قُمْنَا إِلَى الصَّلاةِ فَيَمْسَحُ صُدُورَنَا وَعَوَاتِقَنَا ، وَيَقُولُ : " لا تَخْتَلِفُ صُفُوفُكُمْ فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ ، وَكَانَ يَقُولُ : إِنَّ اللَّهَ وَمَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصَّفِّ الأَوَّلِ ، أَوْ قَالَ : الصُّفُوفِ الأُوَلِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ہم نماز کے لیے کھڑے ہوتے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سینے اور کندھے پکڑ پکڑ کر فرماتے: صفوں میں آگے پیچھے نہ ہوا کریں، ورنہ دلوں میں پھوٹ پڑ جائے گی۔ نیز فرماتے: اللہ تعالیٰ اور فرشتے پہلی صف والوں یا پہلی صفوں والوں پر رحمتیں بھیجتے ہیں۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 316
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده صحيح : مسند الإمام أحمد : 4/285، سنن أبي داود : 664 ، سنن النسائی : 812 ، سنن ابن ماجہ : 997، مختصراً، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (1556) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (2161) نے صحیح کہا ہے۔»
حدیث نمبر: 317
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، قَالَ أَبِي ، عَنٍ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ فِي الصَّلاةِ مُقَدَّمُهَا ، وَشَرُّهَا مُؤَخَّرُهَا " ، لَعَلَّهَ قَالَ : " وَشَرُّ صُفُوفِ النِّسَاءِ فِي الصَّلاةِ مُقَدَّمُهَا وَخَيْرُهَا مُؤَخَّرُهَا " ، الشَّكُّ مِنْ أَبِي مُحَمَّدٍ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز میں مردوں کی بہترین صف پہلی اور بری صف آخری ہے۔ ابو محمد کہتے ہیں کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: عورتوں کی سب سے بری صف پہلی اور بہترین صف آخری ہے۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 317
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده حسن : له شواهد كثيرة عند مسلم (440) وغيره»