حدیث نمبر: 303
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ : ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، قَالَ : ثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فَضْلُ صَلاةِ الْجَمَاعَةِ عَلَى صَلاةِ الرَّجُلِ وَحْدَهُ خَمْسَةٌ وَعِشْرُونَ جُزْءًا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا، اکیلے نماز پڑھنے سے پچیس گنا افضل ہے۔“
حدیث نمبر: 304
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رِجَالا يُقِيمُونَ الصَّلاةَ ثُمَّ آمُرُ فِتْيَانِي فَيُخَالِفُونَ إِلَى قَوْمٍ لا يَأْتُونَهَا فَيُحَرِّقُونَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ بِحُزَمِ الْحَطَبِ ، وَلَوْ عَلِمَ أَحَدُهُمْ أَنَّهُ يَجِدُ عَظْمًا سَمِينًا أَوْ مِرْمَاتَيْنِ حَسَنَتَيْنِ لَشَهِدَ الْعِشَاءَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے ارادہ کیا ہے کہ لوگوں کو حکم دے کر جماعت کھڑی کروا دوں، پھر میں اپنے جوانوں کو حکم دوں کہ وہ ان لوگوں کے پاس جائیں، جو جماعت میں شامل نہیں ہوتے اور لکڑیوں کے گٹھوں سے ان کے گھر جلا دوں، اگر کسی کو معلوم ہو جائے کہ اسے موٹی تازی ہڈی یا دو عمده پائے ملیں گے، تو وہ عشا کی نماز میں بھی حاضر ہو جائے گا۔ “
حدیث نمبر: 305
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَتَيْتُمُ الصَّلاةَ فَلا تَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَسْعُونَ وَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَمْشُونَ ، وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا ، وَمَا فَاتَكُمْ فَاقْضُوا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آپ نماز کے لیے آئیں تو دوڑیں نہ، بلکہ سکون کے ساتھ چل کر آئیں، نماز کا جو حصہ پالیں، پڑھ لیں اور جو چھوٹ جائے، اسے پورا کر لیں۔ “
حدیث نمبر: 306
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاةُ ، نَحْوَهُ ، وَقَالَ : فَأَتِمُّوا ، وَقَالَ شُعَيْبٌ وَعُقَيْلٌ وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ وَغَيْرُهُمْ فِي هَذَا : فَأَتِمُّوا .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اقامت ہو جائے ....“ الخ، شعیب، عقیل اور ابن ابی ذئب وغیرہ کی روایات میں «فَأَتِمُّوا» کے الفاظ ہیں۔
حدیث نمبر: 307
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، " أَنَّ الْمُهَاجِرِينَ حِينَ أَقْبَلُوا مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ نَزَلُوا الْعُصْبَةَ إِلَى جَنْبِ قُبَاءٍ ، فَأَمَّهُمْ سَالِمٌ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ لأَنَّهُ كَانَ أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا , فِيهِمْ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الأَسَدِ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مہاجرین جب مکہ سے مدینہ آئے، تو انہوں نے قباء کے ساتھ عصبہ کے مقام پر پڑاؤ کیا، تو سالم مولیٰ ابی حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ان کی امامت کروائی، کیوں کہ وہ سب سے زیادہ قرآن جانتے تھے۔ ان میں سیدنا ابوسلمہ بن عبدالاسد رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی موجود تھے۔
حدیث نمبر: 308
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ ، قَالَ : ثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ ضَمْعَجٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ ، فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً فَأَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ ، فَإِنْ كَانُوا فِي السُّنَّةِ سَوَاءً فَأَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً ، فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً فَأَقْدَمُهُمْ سِنًّا ، وَلا يُؤَمُّ الرَّجُلُ فِي سُلْطَانِهِ ، وَلا يُقْعَدُ فِي بَيْتِهِ عَلَى تَكْرِمَتِهِ إِلا بِإِذْنِهِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کی امامت وہ کرائے، جو سب سے زیادہ کتاب اللہ (قرآن) کو پڑھنے والا ہو، اگر قرآت میں سب برابر ہوں، تو پھر امامت وہ کرائے، جو سنت کو زیادہ جانتا ہو، اگر سنت میں سب برابر ہوں، تو پھر وہ کرائے، جس نے پہلے ہجرت کی ہو، اگر ہجرت میں بھی سب برابر ہوں، تو وہ کرائے، جو سب سے زیادہ عمر رسیدہ ہو، کوئی کسی کی سلطنت میں اس کی اجازت کے بغیر امامت نہ کرائے اور نہ ہی بغیر اجازت اس کی عزت کی جگہ پر بیٹھے۔ “
حدیث نمبر: 309
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، قَالَ : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، قَالَ : ثَنَا عَمْرُو بْنُ سَلَمَةَ أَبُو يَزِيدَ الْجَرْمِيُّ ، قَالَ : كُنَّا بِحَضْرَةِ مَاءٍ مَمَرِّ النَّاسِ فَكُنَّا نَسْأَلُهُمْ : مَا هَذَا الأَمْرُ ؟ فَذَكَرَ بَعْضَ الْحَدِيثِ ، قَالَ : انْطَلَقَ أَبِي بِإِسْلامِ أَهْلِ حَوَائنا ، قَالَ : فَأَقَامَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يُقِيمَ ، قَالَ : ثُمَّ أَقْبَلَ فَلَمَّا دَنَا مِنْهُ تَلَقَّيْنَاهُ ، فَلَمَّا رَأَيْنَاهُ ، قَالَ : جِئْتُكُمْ وَاللَّهِ مِنْ عِنْدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقًّا ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّهُ يَأْمُرُكُمْ بِكَذَا وَكَذَا ، وَيَنْهَاكُمْ عَنْ كَذَا وَكَذَا ، وَأَنْ تُصَلُّوا صَلاةَ كَذَا وَكَذَا فِي حِينِ كَذَا ، وَصَلاةَ كَذَا فِي حِينِ كَذَا ، وَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلاةُ فَلْيُؤَذِّنْ أَحَدُكُمْ ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قُرْآنًا ، فَنَظَرَ أَهْلُ حَوَائنا ، فَمَا وَجَدُوا أَحَدًا أَكْثَرَ مِنِّي قُرْآنًا لِلَّذِي كُنْتُ أَحْفَظُ مِنَ الرُّكْبَانِ ، قَالَ : فَقَدَّمُونِي بَيْنَ أَيْدِيهِمْ ، فَكُنْتُ أُصَلِّي بِهِمْ وَأَنَا ابْنُ سِتِّ سِنِينَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو یزید جرمی عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگوں کی گزرگاہ پر موجود پانی کے پاس رہتے تھے، چنانچہ ہم ان سے پوچھتے رہتے تھے کہ یہ دین کیسا ہے؟ انہوں نے حدیث بیان کرتے ہوئے فرمایا: میرے والد اپنے محلے کے لوگوں کی طرف سے اسلام کی معلومات لینے گئے، تو جب تک اللہ تعالی نے چاہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہے، پھر جب واپس آئے، تو ہم نے ان کا استقبال کیا۔ وہ ہمیں دیکھ کر کہنے لگے، اللہ کی قسم! میں ایک سچے رسول کے پاس سے آ رہا ہوں۔ پھر فرمایا: وہ آپ کو فلاں فلاں کاموں کا حکم دیتے ہیں اور فلاں فلاں کاموں سے روکتے ہیں، نیز یہ حکم دیتے ہیں کہ آپ فلاں نماز فلاں وقت پڑھیں اور فلاں نماز فلاں وقت پڑھیں، جب نماز کا وقت ہو، تو ایک آدمی اذان کہے، پھر وہ امامت کرائے، جو آپ میں سے قرآن زیادہ جانتا ہو، ہمارے محلے والوں نے غور کیا، تو مجھ سے زیادہ قرآن جاننے والا کسی کو نہ پایا، کیوں کہ میں قافلے والوں سے قرآن یاد کرتا رہتا تھا، چنانچہ انہوں نے مجھے آگے کھڑا کر دیا، میں چھ برس کی عمر میں انہیں نماز پڑھاتا رہا۔
حدیث نمبر: 310
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : ثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " اسْتَخْلَفَ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ عَلَى الْمَدِينَةِ مَرَّتَيْنِ ، وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَوْمَ الْقَادِسِيَّةِ وَمَعَهُ رَايَةٌ سَوْدَاءُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو دو مرتبہ مدینہ میں اپنا نائب مقرر کیا، میں نے جنگ قادسیہ کے دن ان کو دیکھا، ان کے پاس کالا جھنڈا تھا۔
حدیث نمبر: 311
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : " وَقَعَ بَيْنَ حَيَّيْنِ مِنَ الأَنْصَارِ كَلامٌ فِي شَيْءٍ كَانَ بَيْنَهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ حَتَّى نَزَعَ الشَّيْطَانُ بَيْنَهُمْ ، وَقَالَ مَرَّةً : حَتَّى تَنَاوَلَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا ، فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَاهُمْ ، فَاحْتَبَسَ ، فَأَذَّنَ بِلالٌ ، فَلَمَّا أَبْطَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَجِئْ ، فَأَقَامَ بِلالٌ ، فَتَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَلَمَّا تَقَدَّمَ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ يَؤُمُّ النَّاسَ ، فَتَخَلَّلَ الصُّفُوفَ حَتَّى انْتَهَى إِلَى الصَّفِّ الأَوَّلِ ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ لا يَلْتَفِتُ فِي صَلاتِهِ ، فَصَفَّحَ النَّاسُ هَكَذَا بِأَيْدِيهِمْ ، فَلَمَّا سَمِعَ التَّصْفِيحَ الْتَفَتَ ، فَإِذَا هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِ امْكُثْ " ، وَقَالَ مَرَّةً : فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ وَنَكَصَ أَبُو بَكْرٍ الْقَهْقَرَى ، فَتَقَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا قَضَى صَلاتَهُ ، قَالَ : مَا مَنَعَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ أَنْ تَثْبُتَ ؟ قَالَ : مَا كَانَ اللَّهُ لِيَرَى ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ بَيْنَ يَدَيْ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں پائے جانے والے اختلاف کی بنا پر دو انصاری قبائل میں تلخ کلامی ہو گئی حتٰی کہ شیطان حائل ہو گیا (یعنی جھگڑ پڑے) اور ایک روایت میں ہے: حتٰی کہ انہوں نے ایک دوسرے کو پکڑ لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا، تو ان کی صلح کرانے آئے، آپ کو کچھ دیر (نماز تک) ٹھہرنا پڑ گیا، تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اذان کہہ دی، آپ مزید لیٹ ہوئے اور آ نہ سکے، تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہہ دی اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ (نماز پڑھانے کے لیے) آگے ہو گئے، امامت شروع کی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفوں میں سے گزرتے ہوئے، پہلی صف میں کھڑے ہو گئے، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نماز میں ادھر ادھر متوجہ نہیں ہوا کرتے تھے، لوگوں نے تالیاں بجانا شروع کر دیں، جب تالیوں کی آواز سنی، تو اس طرف متوجہ ہوئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اسی جگہ کھڑا رہنے کا اشارہ کیا، سید نا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آسمان کی طرف سر اٹھایا اور الٹے پاؤں پیچھے ہٹ گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آگے ہو گئے، نماز پوری کرنے کے بعد پوچھا: ابوبکر! نماز کی امامت جاری کیوں نہ رکھی؟ عرض کیا: اللہ تعالیٰ ابو قحافہ کے بیٹے کو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے (کھڑا) نہیں دیکھنا چاہتا۔
حدیث نمبر: 312
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَ : أَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أنِي أَبُو حَازِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمًا وَالنَّاسُ وَرَاءَهُ ، فَجَعَلَ يُصَلِّي فَيَرْكَعُ ثُمَّ يَرْفَعُ يَرْجِعُ الْقَهْقَرَى وَيَسْجُدُ عَلَى الأَرْضِ ثُمَّ يَرْجِعُ فَيَرْتَقِي عَلَيْهِ كُلَّمَا سَجَدَ نزل ، فَلَمَّا فَرَغَ ، قَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنِّي إِنَّمَا صَلَّيْتُ لَكُمْ هَكَذَا كَمَا تَرَوْنِي فَتَأَتَمُّونَ بِي " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر نماز پڑھائی، جب کہ لوگ آپ کے پیچھے تھے، آپ جب رکوع سے اٹھے، تو الٹے پاؤں چل کر زمین پر سجدہ کیا، پھر دوبارہ منبر پر چڑھ گئے اور سجدہ کرنے کے لیے اتر گئے، فارغ ہو کر فرمایا: لوگو! میں نے آپ کو یہ نماز اس لیے پڑھائی ہے کہ جیسے آپ نے مجھے دیکھا، اسی طرح میری اقتدا کریں۔