حدیث نمبر: 282
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ فِيَ الْجُمُعَةِ سَاعَةً لا يُوَافِقُهَا رَجُلٌ يُصَلِّي ، فَيَدْعُو اللَّهَ بِخَيْرٍ إِلا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ جو شخص بھی اس وقت نماز پڑھتا ہو اور اللہ تعالیٰ سے کوئی بھلائی مانگے تو اللہ تعالی اسے عطا کر دیتے ہیں۔
حدیث نمبر: 283
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ جَاءَ مِنْكُمُ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جمعہ کے لیے آنے والا غسل کر کے آئے۔
حدیث نمبر: 284
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رِوَايَةً : " الْغُسْلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ مرفوع بیان کرتے ہیں کہ جمعہ کے دن غسل کرنا ہر بالغ پر واجب ہے۔
حدیث نمبر: 285
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَوَضَّأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَبِهَا وَنِعْمَتْ ، وَمَنِ اغْتَسَلَ فَالْغُسْلُ أَفْضَلُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو جمعہ کے دن (صرف) وضو کرے، وہ بھی درست ہے، لیکن جو غسل کرے، تو غسل کرنا افضل ہے۔
حدیث نمبر: 286
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ عَلَى كُلِّ باب مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ مَلائِكَةً يَكْتُبُونَ النَّاسَ الأَوَّلَ فَالأَوَّلَ ، فَإِذَا قَعَدَ الإِمَامُ طَوَوُا الصُّحُفَ وَاسْتَمَعُوا الْخُطْبَةَ ، فَالْمُهَجِّرُ كَالْمُهْدِي بَدَنَةً ، ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ كَالْمُهْدِي بَقَرَةً ، ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ كَالْمُهْدِي كَبْشًا ، حَتَّى ذَكَرَ الدَّجَاجَةَ وَالْبَيْضَةَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جمعہ کے دن) مسجد کے تمام دروازوں پر فرشتے موجود ہوتے ہیں، جو پہلے آنے والوں کے نام ترتیب سے لکھتے ہیں، پھر جب امام (منبر) پر بیٹھ جاتا ہے، تو وہ رجسٹر بند کر کے خطبہ سننے لگتے ہیں، سب سے پہلے آنے والوں کو اونٹ کے صدقے کے برابر ثواب ملتا ہے، اس کے بعد آنے والوں کو گائے کےصدقے کے برابر ثواب ملتا ہے، اس کے بعد آنے والوں کو مینڈھے کے صدقے کے برابر ثواب ملتا ہے۔ حتی کہ آپ نے مرغی اور انڈے (کے صدقے) کا ذکر بھی کیا۔
حدیث نمبر: 287
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ ، قَالَ : ثَنَا مُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ رَوَاحُ الْجُمُعَةِ ، وَعَلَى مَنْ رَاحَ الْجُمُعَةَ الْغُسْلُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر بالغ پر جمعہ (ادا کرنے) کے لیے جانا واجب ہے اور ہر جمعہ ادا کرنے والے پر غسل واجب ہے۔
حدیث نمبر: 288
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ : ثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : ثَنِي عَبِيدَةُ بْنُ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الْجَعْدِ عَمْرِو بْنِ بَكْرٍ الضَّمْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَرَكَ ثَلاثَ جُمَعٍ تَهَاونًا طُبِعَ عَلَى قَلْبِهِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابو الجعد عمر و بن بکر ضمری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو سستی کی وجہ سے تین جمعے (مسلسل) چھوڑ دیتا ہے، اس کے دل پر مہر لگا دی جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 289
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ ، عَنْ فُلَيْحٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيِّ ، سَمِعَ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِنَا الْجُمُعَةَ حِينَ تَمِيلُ الشَّمْسُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سورج ڈھل جانے کے بعد جمعہ پڑھایا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 290
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا أَبُو عُثْمَانَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو الْعَقَدِيُّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " كَانَ النِّدَاءُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذَا خَرَجَ الإِمَامُ ، وَإِذَا قَامَتِ الصَّلاةُ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، حَتَّى كَانَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَكَثُرَتِ الْمَنَازِلُ ، فَأَمَرَ بِالنِّدَاءِ الثَّالِثِ عَلَى الزَّوْرَاءِ ، فَثَبَتَ حَتَّى السَّاعَةِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے دور میں پہلی اذان اس وقت ہوتی تھی جب امام (مسجد میں) آتا تھا اور دوسری اذان تب ہوتی، جب جماعت کھڑی ہوتی تھی (یعنی اقامت) سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں جب آبادی بڑھ گئی، تو انہوں نے مقام زوراء پر تیسری اذان کہنے کا حکم دیا، چنانچہ وہ اب تک جاری ہے۔
حدیث نمبر: 291
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ : ثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، وَثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، أَنَّ أَبَاهُ ، حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كُنْتُ قَائِدًا لأَبِي بَعْدَ مَا ذَهَبَ بَصَرُهُ ، فَكَانَ لا يَسْمَعُ الأَذَانَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، إِلا قَالَ : رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى أَبِي أُمَامَةَ ، فَقُلْتُ لأَبِي : إِنِّي لَيُعْجِبُنِي صَلاتُكَ عَلَى أَبِي أُمَامَةَ كُلَّمَا سَمِعْتَ الأَذَانَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، قَالَ " أَيْ بُنَيَّ ، كَانَ أَوَّلَ مَنْ جَمَعَ بِنَا الْجُمُعَةَ فِي الْمَدِينَةِ فِي هَزْمِ النَّبِيتِ مِنْ حَرَّةِ بَنِي بَيَاضَةَ فِي رَوْضَةٍ يُقَالُ لَهَا : بَقِيعُ الْخَضَمَاتِ ، قَالَ : قُلْتُ : كَمْ أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ : أَرْبَعُونَ رَجُلا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
عبد الرحمن بن کعب بن مالک رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے والد کی بصارت ختم ہونے کے بعد ان کا رہنما تھا، چنانچہ وہ جب بھی جمعہ کی اذان سنتے، تو فرماتے: اللہ! ابو امامہ پر رحم کرے۔ میں نے اپنے والد سے کہا: مجھے اس بات پر حیرانی ہوتی ہے کہ آپ جب بھی جمعہ کی اذان سنتے ہیں، تو ابو امامہ کے لیے رحمت کی دعا کرتے ہیں۔ فرمایا: بیٹا! یہ پہلے شخص ہیں، جنہوں نے ہمیں ہزم النبیت نامی بستی کے ایک باغ میں جمعہ پڑھایا، جسے نقیع الخصمات کہا جاتا ہے، یہ مدینہ کے اندر حرہ بنی بیاضہ میں واقع ہے۔ عرض کیا: اس دن آپ کتنے آدمی تھے؟ فرمایا: چالیس۔
حدیث نمبر: 292
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " أَقْبَلَتْ عِيرٌ وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْجُمُعَةَ ، فَانْفَضَّ النَّاسُ مَا بَقِيَ غَيْرُ اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلا ، فنزلت : وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا سورة الجمعة آية 11 " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ ادا کر رہے تھے کہ ایک (تجارتی) قافلہ آیا، بارہ آدمیوں کے علاوہ سب لوگ اس کی طرف بھاگ گئے تو یہ آیت اتری: «وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا» [الجمعة: 11] (جب کوئی تجارت یا کھیل دیکھتے ہیں، تو اس طرف دوڑ جاتے ہیں۔)
حدیث نمبر: 293
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، وَمَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالا : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : دَخَلَ رَجُلٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ ، قَالَ : " صَلَّيْتَ ؟ قَالَ : لا ، قَالَ : قُمْ فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ جمعہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک آدمی (مسجد میں) داخل ہوا، آپ نے پوچھا: نماز پڑھی ہے؟ کہا: نہیں! فرمایا: اٹھ کر دو رکعت ادا کریں۔
حدیث نمبر: 294
حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : وَسَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ صَالِحٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا إِلَى جَانِبِهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، فَقَالَ " جَاءَ رَجُلٌ يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اجْلِسْ فَقَدْ آذَيْتَ وَآنَيْتَ " ، قَالَ أَبُو الزَّاهِرِيَّةِ : وَكُنَّا نَتَحَدَّثُ مَعَهُ حَتَّى يَخْرُجَ الإِمَامُ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
ابو زاہریہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جمعہ کے دن میں سیدنا عبد الله بن بسر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، وہ کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ جمعہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک آدمی لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: بیٹھ جائیں! آپ نے لوگوں کو تکلیف اور دکھ پہنچایا ہے۔ ابو زاہریہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: امام کے آنے تک ہم باتیں کرتے رہے۔
حدیث نمبر: 295
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ خُطْبَتَيْنِ بَيْنَهُمَا جَلْسَةٌ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن دو خطبے دیا کرتے تھے، جن کے درمیان (تھوڑی دیر کے لیے) بیٹھتے تھے۔
حدیث نمبر: 296
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ قَائِمًا ثُمَّ يَجْلِسُ ثُمَّ يَقُومُ وَيَقْرَأُ آيَاتٍ وَيُذْكَرُ اللَّهَ ، وَكَانَتْ خُطْبَتُهُ قَصْدًا وَصَلاتُهُ قَصْدًا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا جابر بن سمره رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے تھے، پھر بیٹھ جاتے، پھر کھڑے ہو کر آیات تلاوت کرتے اور اللہ کا ذکر کرتے۔ آپ کا خطبہ اور نماز درمیانہ ہوا کرتا تھا۔
حدیث نمبر: 297
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَطَبَ احْمَرَّتْ عَيْنَاهُ وَعَلا صَوْتُهُ وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ حَتَّى كَأَنَّهُ يُنْذِرُ جَيْشًا ، يَقُولُ : " صَبَّحَكُمْ وَمَسَّاكُمْ " . وَيَقُولُ : " بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ ، وَيَقْرُنُ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوسْطَى " . وَيَقُولُ : أَمَا بَعْدُ ، " فَإِنَّ خَيْرَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ ، وَخَيْرَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ ، وَشَرَّ الأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلالَةٌ " . ثُمَّ يَقُولُ : " أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ ، مَنْ تَرَكَ مَالا فَلأَهْلِهِ ، وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَإِلَيَّ وَعَلَيَّ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ دیتے، تو آپ کی آنکھیں سرخ ہو جاتیں، آواز بلند ہو جاتی اور غصہ بڑھ جاتا، گویا کہ آپ کسی لشکر سے ڈرا رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ ابھی صبح یا شام وہ تم پر حملہ آور ہونے والا ہے، آپ نے شہادت والی اور درمیانی انگلی کو ملا کر فرمایا: مجھے اور قیامت کو یوں (اکٹھا) بھیجا گیا ہے۔ نیز فرماتے: حمد وثنا کے بعد! بہترین بات اللہ تعالی کی کتاب ہے اور بہترین طریقہ نبی (کریم صلی اللہ علیہ وسلم) کا ہے، سب سے برے کام (دین میں) نئے کام ہیں، ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ پھر فرماتے: میں ہر مؤمن کا اس کی جان سے بھی زیادہ دوست ہوں۔ جو مؤمن مال چھوڑ کر فوت ہو، تو وہ مال اس کے گھر والوں کا ہے اور جو قرض یا بچے چھوڑ جائے، تو وہ میرے حوالے ہیں اور قرض میرے ذمہ ہے۔
حدیث نمبر: 298
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : ثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالَ : ثَنِي سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلالٍ ، قَالَ : ثَنِي جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : كَانَتْ خُطْبَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يَحْمَدُ اللَّهِ وَيُثْنِي عَلَيْهِ ، ثُمَّ يَقُولُ عَلَى إِثْرِ ذَلِكَ وَقَدْ عَلا صَوْتُهُ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ جمعہ یوں ہوا کرتا تھا کہ آپ اللہ کی حمد وثنا کرنے کے بعد بلند آواز سے کہتے۔ آگے وہی الفاظ مذکور ہیں۔
حدیث نمبر: 299
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَبْلُغُ بِهِ : " إِذَا قُلْتَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ : أَنْصِتْ ، فَقَدْ لَغَوْتَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ مرفوعا بیان کرتے ہیں: خطبہ جمعہ کے دوران جب آپ نے (کسی سے) کہا: چپ کر جا! تو آپ نے لغو (فضول) کام کیا۔
حدیث نمبر: 300
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَ : ثَنِي عُقْبَةُ ، قَالَ : ثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمً مَوْلَى النُّعْمَانِ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يَقْرَأُ فِي الْجُمُعَةِ بِـ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى وَ هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز جمعہ میں سورت اعلیٰ اور غاشیہ پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 301
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ " اسْتَخْلَفَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الْمَدِينَةِ ، فَصَلَّى بِهِمْ أَبُو هُرَيْرَةَ الْجُمُعَةَ ، فَقَرَأَ بِهِمْ بِسُورَةِ الْجُمُعَةِ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى ، وَفِي الثَّانِيَةِ إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ : فَلَمَّا انْصَرَفَ أَبُو هُرَيْرَةَ مَشَيْتُ إِلَى جَنْبِهِ ، فَقُلْتُ : لَقَدْ قَرَأْتَ بِسُورَتَيْنِ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقْرَأُ بِهِمَا فِي الْكُوفَةِ ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهِمَا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
عبید اللہ بن ابی رافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ مروان نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ کا گورنر بنایا، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں نماز جمعہ پڑھائی، تو پہلی رکعت میں سورت جمعہ اور دوسری میں سورت منافقون پڑھی، عبید اللہ کہتے ہیں: جب سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ واپس جانے لگے، تو میں نے ان کے ہمراہ چلتے ہوئے کہا: آپ نے تو وہ سورتیں پڑھی ہیں، جو میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو کوفہ میں پڑھتے سنا تھا، فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ سورتیں پڑھتے سنا ہے۔
حدیث نمبر: 302
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، قَالَ : ثَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْمُغِيرَةُ الضَّبِّيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " قَدِ اجْتَمَعَ فِي يَوْمِكُمْ هَذَا عِيدَانِ ، فَمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ أَجْزَأَهُ مِنَ الْجُمُعَةِ ، وَإِنَّا مُجَمِّعُونَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج کے دن دو عیدیں (عید اور جمعہ) اکٹھی ہو گئی ہیں۔ جو چاہے، تو اسے خطبہ عید ہی (خطبہ جمعہ سے) کفایت کر جائے گا لیکن ہم تو ان شاء اللہ دونوں ہی ادا کریں گے۔“