حدیث نمبر: 229
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَقَطَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَرَسِ فَجُحِشَ شِقُّهُ الْأَيْمَنُ فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ نَعُودُهُ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى قَاعِدًا فَصَلَّيْنَا قُعُودًا فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَ: " إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا أَجْمَعُونَ "
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے سے گر گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے داہنے پہلو پر خراشیں آ گئیں، ہم آپ کی عیادت کرنے گئے، تو نماز کا وقت ہو گیا، آپ نے بیٹھ کر نماز پڑھائی، تو ہم نے بھی (آپ کے پیچھے) بیٹھ کر نماز پڑھی، نماز پوری کرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امام صرف اسی لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے، جب وہ تکبیر کہے، تو آپ بھی تکبیر کہیں، جب وہ رکوع کرے، تو آپ بھی رکوع کریں اور جب وہ رکوع سے سر اٹھائے، تو آپ بھی سر اٹھا لیں، جب وہ «سمع الله لمن حمده» (اللہ نے اسے سن لیا، جس نے اس کی تعریف کی) کہے، تو آپ «ربنا ولك الحمد» (ہمارے پروردگار! تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں) کہیں، جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے، تو آپ بھی بیٹھ کر نماز پڑھیں۔
حدیث نمبر: 230
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْعَطَّارُ، قَالَ: ثَنَا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، قَالَ: ثَنَا حُسَيْنٌ الْمُكْتِبُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ الْقَاعِدِ قَالَ: «مَنْ صَلَّى قَائِمًا فَهُوَ أَفْضَلُ وَمَنْ صَلَّى قَاعِدًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَائِمِ وَمَنْ صَلَّى نَائِمًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَاعِدِ» ، وَهَكَذَا حَدَّثَنَا بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ عَنْ حُسَيْنٍ
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیٹھ کر نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا، فرمایا: کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والا افضل ہے، جو بیٹھ کر نماز پڑھتا ہے، اسے کھڑا ہونے والے سے آدھا ثواب ملتا ہے اور جو لیٹ کر نماز پڑھتا ہے، اسے بیٹھنے والے سے آدھا ثواب ملتا ہے۔ محمد بن یحیٰی نے بھی یزید بن ہارون سے اسی طرح بیان کیا ہے۔
حدیث نمبر: 231
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: ثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ بِي النَّاصُورُ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ فَقَالَ: «صَلِّ قَائِمًا فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَى جَنْبٍ»
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے ناسور (کینسر) تھا، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز (پڑھنے) کے بارے میں پوچھا، فرمایا: کھڑے ہو کر نماز پڑھا کریں، ہمت نہ ہو، تو بیٹھ کر پڑھ لیں، اگر اس کی ہمت بھی نہ ہو، تو لیٹ کر پڑھ لیں۔