حدیث نمبر: 121
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: ثَنِي أَبِي عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: ثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: عَرَّسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَاتِ الْجَيْشِ وَمَعَهُ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجُهُ فَانْقَطَعَ عِقْدٌ لَهَا مِنْ جَزْعِ ظَفَارٍ فَحَبَسَ النَّاسَ ابْتِغَاءُ عِقْدِهَا ذَلِكَ حَتَّى أَضَاءَ الْفَجْرُ وَلَيْسَ مَعَ النَّاسِ مَاءٌ فَتَغَيَّظَ عَلَيْهَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَالَ: حَبَسْتِ النَّاسَ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رَسُولِهِ رُخْصَةَ التَّطَهُّرِ بِالصَّعِيدِ الطَّيِّبِ فَقَامَ الْمُسْلِمُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَرَبُوا بِأَيْدِيهِمُ الْأَرْضَ ثُمَّ رَفَعُوا أَيْدِيَهُمْ وَلَمْ يَقْبِضُوا مِنَ التُّرَابِ شَيْئًا فَمَسَحُوا وجُوهَهُمْ وَأَيْدِيَهُمْ إِلَى الْمَنَاكِبِ وَمَنْ بُطُونِ أَيْدِيهِمْ إِلَى الْآبَاطِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَلَا يَعْتَبِرُ النَّاسُ بِهَذَا.
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذات الجیش نامی جگہ پر پڑاؤ ڈالا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ آپ کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔ اس دوران آپ کا ظفاری (ساحل یمن کے پاس ایک شہر ) عقیق کا بنا ہوا ہار ٹوٹ کر گر گیا۔ اس کی تلاش نے پورے قافلے کو روک لیا، یہاں تک کہ صبح روشن ہو گئی اور لوگوں کے پاس پانی بھی نہ تھا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ناراض ہو کر کہا: آپ نے پورے قافلے کو روک رکھا ہے اور ان کے پاس (وضو کے لیے ) پانی بھی نہیں ہے۔ اسی اثنا میں اللہ تعالی نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر پاک مٹی سے حصولِ طہارت کی رخصت سے متعلق آیت نازل فرمائی۔ تمام مسلمانوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہو کر اپنے ہاتھ زمین پر مارے اور مٹی لیے بغیر ہاتھوں کو اٹھا لیا اور چہروں، کندھوں تک ہاتھوں اور ہاتھوں کی اندرونی جانب سے بغلوں تک مسح کیا۔ ابن شہاب رحمہ اللہ نے اپنی روایت میں کہا ہے کہ اس فعل (کندھوں اور بغلوں کے مسح) پر لوگوں کا عمل نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 122
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ، قَالَ: ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: ثَنَا عَوْفٌ، قَالَ: ثَنَا أَبُو رَجَاءٍ، قَالَ: ثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ فَلَمَّا انْفَتَلَ مِنْ صَلَاتِهِ إِذَا رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ لَمْ يُصَلِّ مَعَ الْقَوْمِ فَقَالَ: «مَا مَنَعَكَ يَا فُلَانُ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ؟» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ وَلَا مَاءَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَيْكَ بِالصَّعِيدِ الطَّيِّبِ فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ».
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے کہ آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے، تو (دیکھا) ایک آدمی الگ بیٹھا تھا، جس نے لوگوں کے ساتھ نماز نہیں پڑھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: فلاں ! آپ نے لوگوں کے ساتھ نماز کیوں نہ پڑھی؟ کہنے لگے: اللہ کے رسول! میں جنبی ہو گیا ہوں اور پانی دستیاب نہیں، فرمایا: مٹی استعمال کر لیں ، یہی کافی ہے۔
حدیث نمبر: 123
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: ثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «جُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا».
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زمین میرے لیے مسجد اور پاکی کا ذریعہ بنا دی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 124
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: ثَنَا حَجَّاجٌ الْأَنْمَاطِيُّ، قَالَ: ثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، وَحُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «جُعِلَتْ لِي كُلُّ أَرْضٍ طَيِّبَةٍ مَسْجِدًا وَطَهُورًا».
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ساری پاک زمین میرے لیے مسجد اور پاکی کا ذریعہ بنادی گئی ہے۔
حدیث نمبر: 125
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: ثَنَا الْحَكَمُ عَنْ ذَرٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا، أَتَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدْ مَاءً فَقَالَ: لَا تُصَلِّ فَقَالَ عَمَّارٌ: أَمَا تَذْكُرُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ أَنَا وَأَنْتَ فِي سَرِيَّةٍ فَأَجْنَبْنَا فَلَمْ نَجِدْ مَاءً فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ وَصَلَّيْتُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا يَكْفِيكَ أَنْ تَضْرِبَ بِيَدَيْكَ الْأَرْضَ ثُمَّ تَنْفُخَ ثُمَّ تَمَسَّحَ بِهِمَا وَجْهَكَ وَكَفَّيْكَ» ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: اتَّقِ اللَّهَ يَا عَمَّارُ فَقَالَ: إِنْ شِئْتَ لَمْ أُحَدِّثْ بِهِ وَقَالَ الْحَكَمُ: وَحدَّثَنِيهِ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبْزَى عَنْ أَبِيهِ حَدِيثِ ذَرٍّ قَالَ: وَثَنِي سَلَمَةُ عَنْ ذَرٍّ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ الَّذِي ذَكَرَ الْحَكَمُ قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: بَلْ نُوَلِّيكَ مَا تَوَلَّيْتَ.
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
عبدالرحمن بن ابزی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ایک آدمی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آکر کہنے لگا: میں جنبی ہوں، پانی نہیں ملا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: نماز ہی نہ پڑھیے، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کہنے لگے: امیر المومنین یاد نہیں، جب میں اور آپ ایک قافلہ میں (سفر کر رہے) تھے؟ ہم جنبی ہو گئے اور پانی نہ ملا ، آپ نے نماز نہ پڑھی ، مگر میں نے (جانوروں کی طرح) زمین پر لوٹ پوٹ ہو کر نماز پڑھ لی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: آپ کے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارتے ، پھر پھونک مار کر اپنے چہرے اور دونوں ہاتھوں پر مل لیتے ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: عمار! اللہ سے ڈریے ! سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اگر آپ چاہتے ہیں ، تو میں یہ حدیث بیان نہیں کروں گا۔ حکم رحمہ اللہ کہتے ہیں: عبدالرحمن بن ابزیٰ رحمہ اللہ نے مجھے بھی یہ حدیث اسی طرح بیان کی ہے، نیز حکم والی سند میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ اپنی بیان کردہ روایت کے خود ذمہ دار ہیں ۔
حدیث نمبر: 126
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: ثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ، قَالَ: ثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي التَّيَمُّمِ: «ضَرْبَةٌ لِلْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ».
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیمّم کے متعلق فرمایا: چہرے اور ہاتھوں کے لیے ایک ہی ضرب کافی ہے۔
حدیث نمبر: 127
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثَنَا أَبُو صَالِحٍ، قَالَ: ثَنِي اللَّيْثُ قَالَ: ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: أَقْبَلَتْ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبِي الْجُهَيْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّةِ الْأَنْصَارِيِّ فَقَالَ أَبُو الْجُهَيْمِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَحْوِ بِئْرِ جَمَلٍ فَلَقِيَهُ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَقْبَلَ عَلَى الْجِدَارِ فَمَسَحَ بِوَجْهِهِ وَيَدَيْهِ.
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں اور ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے غلام عبد اللہ بن یسار رضی اللہ عنہ ابو جہیم بن حارث بن صمّہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، ابو جہیم رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برٔجمل کی طرف سے تشریف لا رہے تھے، ایک آدمی نے آپ کو سلام کہا ، آپ نے جواب نہ دیا، حتٰی کہ دیوار کے پاس آکر چہرے اور دونوں ہاتھوں پر مسح کیا۔ (یعنی تیمم کر کے جواب دیا )
حدیث نمبر: 128
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، قَالَ: ثَنَا أَبِي قَالَ: أَنْبَأَنِي الْوَلِيدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّ عَطَاءً، حَدَّثَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا، أَجْنَبَ فِي شِتَاءٍ فَسَأَلَ فَأُمِرَ بِالْغَسْلِ فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَا لَهُمْ قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللَّهُ ثَلَاثًا قَدْ جَعَلَ اللَّهُ الصَّعِيدَ أَوْ التَّيَمُّمَ طَهُورًا» ، شَكَّ ابْنُ عَبَّاسٍ ثُمَّ أَثْبَتَهُ بَعْدُ.
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی سردی کے موسم میں جنبی ہو گیا۔ اس نے مسئلہ پوچھا، تو اسے غسل کرنے کا حکم دیا گیا۔ اس نے غسل کیا، تو مر گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی گئی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ ان کو برباد کرے، انہوں نے اسے مار ڈالا (یہ بات آپ نے تین مرتبہ فرمائی) اللہ نے مٹی یا تیمم کو تمھارے لیے پاکیزگی کا ذریعہ بنایا ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو شک تھا، بعد میں انہوں نے یقین سے بیان کیا ہے۔
حدیث نمبر: 129
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: ثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: ثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا رَفَعَهُ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى {وَإِنْ كُنْتُمْ مَرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ} [النساء: ٤٣] قَالَ: «إِذَا كَانَتْ بِالرَّجُلِ الْجِرَاحَةُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوِ الْقُرُوحُ أَوِ الْجُدَرِيُّ فَيَجْنِبُ فَيَخَافُ إِنِ اغْتَسَلَ أَنْ يَمُوتَ فَلْيَتَيَمَّمْ».
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما آیت: «وَإِنْ كُنْتُمْ مَرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ» (اگر تم بیمار يا مسافر ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ) کی تفسیر میں مرفوعاً بیان کرتے ہیں: اگر کسی آدمی کو اللہ کی راہ میں زخم لگ جائے ، یا پھوڑا، پھنسی ہو، یا چیچک کا مرض لاحق ہو اور وہ جنبی ہو جائے غسل کرنے کی صورت میں مرنے کا اندیشہ ہو، تو تیمم کر لے۔