کتب حدیثالمنتقى ابن الجارودابوابباب: کھڑے ہو کر اور لوگوں کے قریب (پردے میں) پیشاب کرنے کی رخصت
حدیث نمبر: 36
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَ: ثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْتَهَى إِلَى سُبَاطَةِ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا فَتَنَحَّيْتُ فَدَعَانِي وَقَالَ: «لِمَ تَنَحَّيْتَ؟» فَقُمْتُ عِنْدَ عَقِبِهِ فَلَمَّا فَرَغَ دَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ.
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا ، آپ ایک قوم کے ڈھیر پر پہنچے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا، میں ایک طرف کو ہو گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا کر پوچھا: آپ ایک طرف کیوں ہو گئے ہو؟ تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایڑیوں کے پاس کھڑا ہو گیا، جب آپ (پیشاب سے) فارغ ہوئے تو پانی منگوا کر وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا۔
حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الطهارة / حدیث: 36
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: متفق عليه
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 224، صحيح مسلم: 273»