حدیث نمبر: 880
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَضْرِبُ وَلَدَهُ عَلَى اللَّحْنِ.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنے بیٹے کو غلط پڑھنے پر مارا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 881
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ كَثِيرٍ أَبِي مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَجْلاَنَ قَالَ: مَرَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِرَجُلَيْنِ يَرْمِيَانِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ: أسَبْتَ، فَقَالَ عُمَرُ: سُوءُ اللَّحْنِ أَشَدُّ مِنْ سُوءِ الرَّمْيِ.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
عبدالرحمٰن بن عجلان رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ دو آدمیوں کے پاس سے گزرے جو تیر اندازی کر رہے تھے۔ ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: أسبت، یعنی تو نے ٹھیک کیا (حالانکہ یہ أَصَبْتَ ہے) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تلفظ کی غلطی تیر اندازی کی غلطی سے بری ہے۔