حدیث نمبر: 712
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : ”لَيْسَ شَيْءٌ أَكْرَمَ عَلَى اللَّهِ مِنَ الدُّعَاءِ .“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک دعا سے بڑھ کر کوئی چیز قابل قدر نہیں۔“
حدیث نمبر: 713
حَدَّثَنَا خَلِيفَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِمْرَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : ”أَشْرَفُ الْعِبَادَةِ الدُّعَاءُ .“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے افضل اور اعلیٰ عبادت دعا ہے۔“
حدیث نمبر: 714
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنْ يُسَيْعَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : ”إِنَّ الدُّعَاءَ هُوَ الْعِبَادَةُ“، ثُمَّ قَرَأَ : ﴿ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ﴾ [غافر : 60].
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دعا ہی عبادت ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: «وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ» [غافر: 60] ”مجھے پکارو میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔“
حدیث نمبر: 715
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنِ مُبَارَكِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّ الْعِبَادَةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : ”دُعَاءُ الْمَرْءِ لِنَفْسِهِ .“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سی عبادت افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کا اپنے لیے دعا کرنا۔“
حدیث نمبر: 716
حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ النَّرْسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ ، يَقُولُ : انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : ”يَا أَبَا بَكْرٍ ، لَلشِّرْكُ فِيكُمْ أَخْفَى مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ“، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : وَهَلِ الشِّرْكُ إِلا مَنْ جَعَلَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ”وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَلشِّرْكُ أَخْفَى مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ ، أَلا أَدُلُّكَ عَلَى شَيْءٍ إِذَا قُلْتَهُ ذَهَبَ عَنْكَ قَلِيلُهُ وَكَثِيرُهُ ؟“ قَالَ : ”قُلِ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أُشْرِكَ بِكَ وَأَنَا أَعْلَمُ ، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا لا أَعْلَمُ .“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہمراہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابو بکر! یقیناً شرک تم لوگوں میں چیونٹی کی چال سے بھی پوشیدہ ہو کر آتا ہے۔“ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانے کے علاوہ بھی شرک ہوتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یقیناً شرک چیونٹی کے رینگنے سے بھی زیادہ پوشیدہ طریقے سے داخل ہو جاتا ہے۔ کیا میں تیری راہنمائی ایسے کلمات کی طرف نہ کروں کہ جب تم وہ کہہ لو تو چھوٹا بڑا تمام شرک تجھ سے ختم ہو جائے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کہو: اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ میں جانتے بوجھتے تیرے ساتھ شرک کروں اور جو میں نہیں جانتا اس کے بارے میں استغفار کرتا ہوں۔“