حدیث نمبر: 628
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : إِنِّي لأَدْعُو فِي كُلِّ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِي حَتَّى أَنْ يُفْسِحَ اللَّهُ فِي مَشْيِ دَابَّتِي ، حَتَّى أَرَى مِنْ ذَلِكَ مَا يَسُرُّنِي .
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں اپنے ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں حتی کہ اس میں بھی کہ وہ میری سواری کے چلنے میں وسعت پیدا فرما دے۔ یہاں تک کہ میں اس میں وہ چیز دیکھتا ہوں جو مجھے خوش کر دیتی ہے۔
حدیث نمبر: 629
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُهَاجِرٌ أَبُو الْحَسَنِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الأَوْدِيِّ ، عَنْ عُمَرَ ، أَنَّهُ كَانَ فِيمَا يَدْعُو : اللَّهُمَّ تَوَفَّنِي مَعَ الأَبْرَارِ ، وَلا تُخَلِّفْنِي فِي الأَشْرَارِ ، وَأَلْحِقْنِي بِالأَخْيَارِ .
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ اپنی دعا میں یوں کہا کرتے تھے: اے اللہ! مجھے نیک لوگوں کے ساتھ فوت فرمانا اور مجھے برے لوگوں کے ساتھ پیچھے نہ چھوڑ دینا اور مجھے اچھے لوگوں کے ساتھ ملانا۔
حدیث نمبر: 630
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَقِيقٌ ، قَالَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ ، يُكْثِرُ أَنْ يَدْعُوَ بِهَؤُلاءِ الدَّعَوَاتِ : رَبَّنَا أَصْلِحْ بَيْنَنَا ، وَاهْدِنَا سَبِيلَ الإِسْلامِ ، وَنَجِّنَا مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ ، وَاصْرِفْ عَنَّا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهْرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ ، وَبَارِكْ لَنَا فِي أَسْمَاعِنَا وَأَبْصَارِنَا وَقُلُوبِنَا وَأَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ، وَاجْعَلْنَا شَاكِرِينَ لِنِعْمَتِكَ ، مُثْنِينَ بِهَا ، قَائِلِينَ بِهَا ، وَأَتْمِمْهَا عَلَيْنَا.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ کثرت سے یہ دعا فرمایا کرتے: ”اے اللہ! ہمارے معاملات کی اصلاح فرما، اور ہمیں راہ اسلام کی ہدایت دے، اور ہمیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نجات عطا فرما، اور ہمیں ظاہر و باطن ہر قسم کی بےحیائی اور بری باتوں سے دور رکھ، اور ہمارے لیے ہمارے کانوں، ہماری آنکھوں، ہمارے دلوں اور ہمارے بیوی بچوں میں برکت عطا فرما۔ اور ہماری توبہ قبول فرما، یقیناً تو ہی توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔ ہمیں اپنی نعمتوں کا شکر کرنے والا، ان کی تعریف کرنے والا، اور ان کا اقرار کرنے والا بنا دے، اور ہم پر اپنی نعمت کو پورا فرما۔“
حدیث نمبر: 631
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ : كَانَ أَنَسٌ ، إِذَا دَعَا لأَخِيهِ ، يَقُولُ : جَعَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ صَلاةَ قَوْمٍ إِبْرَارٍ لَيْسُوا بِظَلَمَةٍ وَلا فُجَّارٍ ، يَقُومُونَ اللَّيْلَ ، وَيَصُومُونَ النَّهَارَ .
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
ثابت رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ جب اپنے کسی بھائی کے لیے دعا کرتے تو یوں کہتے: ”اللہ اسے نیک لوگوں کی دعاؤں کا حق دار بنائے جو نہ ظالم ہوں اور نہ بدکار، جو راتوں کو قیام کرتے ہوں اور دن کو روزہ رکھتے ہوں۔“
حدیث نمبر: 632
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ الْيَمَانِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ ، يَقُولُ : ذَهَبَتْ بِي أُمِّي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَسَحَ عَلَى رَأْسِي ، وَدَعَا لِي بِالرِّزْقِ .
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میری ماں مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے لیے رزق کی دعا فرمائی۔
حدیث نمبر: 633
حَدَّثَنَا مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّومِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قِيلَ لَهُ : إِنَّ إِخْوَانَكَ أَتَوْكَ مِنَ الْبَصْرَةِ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ بِالزَّاوِيَةِ ، لِتَدْعُوَ اللَّهَ لَهُمْ ، قَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا ، وَارْحَمْنَا ، وَآتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً ، وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً ، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ، فَاسْتَزَادُوهُ ، فَقَالَ مِثْلَهَا ، فَقَالَ : إِنْ أُوتِيتُمْ هَذَا ، فَقَدْ أُوتِيتُمْ خَيْرَ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ .
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے کہا گیا کہ آپ کے کچھ بھائی بصرہ سے آپ کے پاس آئے ہیں تاکہ آپ ان کے لیے دعا کریں۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ ان دنوں زاویہ مقام پر تھے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے یوں دعا کی: اے اللہ! ہمیں بخش دے، اور ہم پر رحم فرما، اور ہمیں دنیا و آخرت میں بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے۔ انہوں نے مزید دعا کی درخواست کی تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے پھر اسی طرح دعا کی اور فرمایا: اگر تمہیں یہ مل گیا تو تمہیں دنیا و آخرت کی خیر مل گئی۔
حدیث نمبر: 634
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو رَبِيعَةَ سِنَانٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُصْنًا فَنَفَضَهُ فَلَمْ يَنْتَفِضْ ، ثُمَّ نَفَضَهُ فَلَمْ يَنْتَفِضْ ، ثُمَّ نَفَضَهُ فَانْتَفَضَ ، قَالَ : ”إِنَّ سُبْحَانَ اللَّهِ ، وَالْحَمْدَ لِلَّهِ ، وَلا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، يَنْفُضْنَ الْخَطَايَا كَمَا تَنْفُضُ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا .“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ٹہنی پکڑی اور اسے جھاڑا تو اس کے پتے نہ جھڑے، پھر اسے جھاڑا تو بھی اس کے پتے نہ جھڑے، پھر تیسری بار جھاڑا تو جھڑ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”«سبحان الله، الحمد لله، لا إله إلا الله» خطاؤں کو اس طرح جھاڑ دیتے ہیں جس طرح درخت کے پتے جھڑتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 635
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَلَمَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ : أَتَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشْكُو إِلَيْهِ الْحَاجَةَ ، أَوْ بَعْضَ الْحَاجَةِ ، فَقَالَ : ”أَلا أَدُلُّكَ عَلَى خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ ؟ تُهَلِّلِينَ اللَّهَ ثَلاثِينَ عِنْدَ مَنَامِكِ ، وَتُسَبِّحِينَ ثَلاثًا وَثَلاثِينَ ، وَتَحْمَدِينَ أَرْبَعًا وَثَلاثِينَ ، فَتِلْكَ مِائَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا.“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور اپنی ضروریات کا شکوہ کیا، یا کسی ضرورت کے بارے میں شکایت کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تیری رہنمائی اس سے بہتر کی طرف نہ کروں؟ تم سوتے وقت تینتیس مرتبہ «لا إله إلا الله»، تینتیس مرتبہ «سبحان الله» اور چونتیس مرتبہ «الحمد لله» پڑھا کرو۔ یہ سو کلمات دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس سے بہتر ہیں۔“
حدیث نمبر: 636
وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ”مَنْ هَلَّلَ مِائَةً ، وَسَبَّحَ مِائَةً ، وَكَبَّرَ مِائَةً ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ عَشْرِ رِقَابٍ يُعْتِقُهَا ، وَسَبْعِ بَدَنَاتٍ يَنْحَرُهَا“ .
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سابقہ سند کے ساتھ مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے سو مرتبہ «لا إله إلا الله» کہا، سو مرتبہ «سبحان الله» کہا اور سو مرتبہ «الله أكبر» کہا، یہ اس کے لیے دس گردنوں کو آزاد کرنے سے بہتر ہے۔ اور سات موٹے تازے اونٹ قربان کرنے سے بہتر ہے۔“
حدیث نمبر: 637
فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : ”سَلِ اللَّهَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ“، ثُمَّ أَتَاهُ الْغَدَ فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : ”سَلِ اللَّهَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ ، فَإِذَا أُعْطِيتَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ فَقَدْ أَفْلَحْتَ“.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کون سی دعا سب سے زیادہ فضیلت والی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ سے دنیا و آخرت میں معافی اور عافیت مانگو۔“ پھر وہ اگلے دن آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی! کون سی دعا افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ سے درگزر اور عافیت طلب کرو۔ اگر تمہیں دنیا و آخرت میں عافیت مل گئی تو یقیناً تو فلاح پا گیا۔“
حدیث نمبر: 638
حَدَّثَنَا آدَمُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَسْرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : ”أَحَبُّ الْكَلامِ إِلَى اللَّهِ : سُبْحَانَ اللَّهِ لا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ ، سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ.“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کو سب سے محبوب کلام یہ ہے: «سبحان الله وبحمده، لا شريك له، له الملك وله الحمد، وهو على كل شيء قدير، لا حول ولا قوة إلا بالله، سبحان الله والحمد لله» اللہ تعالیٰ پاک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت ہے، اسی کے لیے ہر قسم کی تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔ گناہ سے بچنے اور نیکی کرنے کی توفیق صرف اللہ کی طرف سے ہے۔ اللہ پاک ہے، اور اسی کی تعریف کے ساتھ (ہم مشغول ہیں)۔“
حدیث نمبر: 639
حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ جَبْرِ بْنِ حَبِيبٍ ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومِ ابْنَةِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أُصَلِّي ، وَلَهُ حَاجَةٌ ، فَأَبْطَأْتُ عَلَيْهِ ، قَالَ : ”يَا عَائِشَةُ ، عَلَيْكِ بِجُمَلِ الدُّعَاءِ وَجَوَامِعِهِ“، فَلَمَّا انْصَرَفْتُ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا جُمَلُ الدُّعَاءِ وَجَوَامِعُهُ ؟ قَالَ : ”قُولِي : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهِ ، عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّرِّ كُلِّهِ عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمُ ، وَأَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ وَمَا قَرَّبَ إِلَيْهَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ ، وَأَسْأَلُكَ مِمَّا سَأَلَكَ بِهِ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِمَّا تَعَوَّذَ مِنْهُ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَا قَضَيْتَ لِي مِنْ قَضَاءٍ فَاجْعَلْ عَاقِبَتَهُ رُشْدًا.“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس کسی کام کی غرض سے تشریف لائے جبکہ میں نماز میں مصروف تھی۔ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے میں دیر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! جامع قسم کی دعا کیا کرو۔“ جب میں نے نماز ختم کی تو عرض کیا: اے اللہ کے رسول! جامع قسم کی دعا کون سی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کہو: اے اللہ میں تجھ سے ہر جلد یا بہ دیر آنے والی بھلائی کا سوال کرتی ہوں۔ جس کو میں جانتی ہوں اور جس کو نہیں جانتی۔ اور میں تجھ سے دنیا و آخرت کے شر سے پناہ چاہتی ہوں، جس کا مجھے علم ہو اور جس کا علم نہ ہو۔ اور میں تجھ سے جنت اور اس کے قریب کرنے والے ہر قول و فعل کی سوالی ہوں۔ اور میں آگ سے تیری پناہ مانگتی اور ہر اس بات اور عمل سے بھی پناہ مانگتی ہوں جو مجھے اس کے قریب کرے۔ اور میں اس چیز کا سوال کرتی ہوں جس کا سوال محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا، اور ہر اس چیز سے پناہ مانگتی ہوں جس سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پناہ مانگی، اور تو نے جو فیصلہ بھی میرے لیے کیا اس کا انجام اچھا کر دے۔“