حدیث نمبر: 383
حَدَّثَنَا عَارِمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ قَالَ: كَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ بِمَكَّةَ وَأَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْمِلُونَ الطَّيْرَ فِي الأَقْفَاصِ.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما مکہ کے حاکم تھے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ پرندوں کو ڈربوں میں رکھتے تھے۔
حدیث نمبر: 384
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى ابْنًا لأَبِي طَلْحَةَ يُقَالُ لَهُ: أَبُو عُمَيْرٍ، وَكَانَ لَهُ نُغَيْرٌ يَلْعَبُ بِهِ، فَقَالَ: ”يَا أَبَا عُمَيْرٍ، مَا فَعَلَ أَوْ، أَيْنَ، النُّغَيْرُ؟.“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے گھر) داخل ہوئے تو سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے ایک بیٹے کو (پریشان) دیکھا جسے ابو عمیر کہا جاتا ہے۔ ان کی ایک چڑیا تھی جس کے ساتھ وہ کھیلا کرتے تھے۔ (وہ مر گئی) تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابو عمیر! تیری چڑیا کا کیا بنا؟ یا وہ کہاں گئی؟“