کتب حدیثالادب المفردابوابباب: والدین کی نافرمانی کی سزا
حدیث نمبر: 29
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عُيَيْنَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”مَا مِنْ ذَنْبٍ أَجْدَرُ أَنْ يُعَجَّلَ لِصَاحِبِهِ الْعُقُوبَةُ مَعَ مَا يُدَّخَرُ لَهُ، مِنَ الْبَغِيِّ وَقَطِيعَةِ الرَّحِمِ.“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ظلم اور قطع رحمی سے بڑھ کر کوئی گناہ ایسا نہیں ہے جو اس بات کا زیادہ لائق ہو کہ کرنے والے کو دنیا میں بھی جلد سزا ملے اور آخرت میں بھی عذاب ہو۔“
حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب الوالدين / حدیث: 29
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحیح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه أبوداؤد، الأدب، باب النهي عن البغي : 4902 و الترمذي : 2511 و ابن ماجه : 4211 ، الصحيحة : 918، 978»
حدیث نمبر: 30
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ‏:‏ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏ ”مَا تَقُولُونَ فِي الزِّنَا، وَشُرْبِ الْخَمْرِ، وَالسَّرِقَةِ‏؟“‏ قُلْنَا‏:‏ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ‏:‏ ”هُنَّ الْفَوَاحِشُ، وَفِيهِنَّ الْعُقُوبَةُ، أَلاَ أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ‏؟‏ الشِّرْكُ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ“، وَكَانَ مُتَّكِئًا فَاحْتَفَزَ قَالَ‏:‏ ”وَالزُّورُ‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم زنا، شراب پینے اور چوری کے متعلق کیا کہتے ہو؟“ ہم نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ نہایت ہی برے اور گھٹیا کام ہیں، اور ان میں سزائیں بھی ہیں۔“ (اور) ”کیا میں تمہیں بڑے بڑے گناہوں کے متعلق نہ بتاؤں؟“ (فرمایا وہ یہ ہیں:) ”اللہ عزوجل کے ساتھ شرک کرنا، اور والدین کی نافرمانی کرنا۔“ آپ تکیہ لگا کر بیٹھے تھے، پھر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے، فرمایا: ”اور جھوٹ (بھی بہت بڑا گناہ ہے۔)“
حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب الوالدين / حدیث: 30
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعیف
تخریج حدیث «ضعيف : رواه المروزي فى البر والصلة : 105 و الطبراني فى الكبير : 140/18 و البيهقي فى الكبرىٰ : 209/8 ، غاية المرام : 277»