حدیث نمبر: 1238
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ السَّائِبِ، عَنْ عُمَرَ قَالَ: رُبَّمَا قَعَدَ عَلَى بَابِ ابْنِ مَسْعُودٍ رِجَالٌ مِنْ قُرَيْشٍ، فَإِذَا فَاءَ الْفَيْءُ قَالَ: قُومُوا فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لِلشَّيْطَانِ، ثُمَّ لاَ يَمُرُّ عَلَى أَحَدٍ إِلاَّ أَقَامَهُ، قَالَ: ثُمَّ بَيْنَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ قِيلَ: هَذَا مَوْلَى بَنِي الْحَسْحَاسِ يَقُولُ الشِّعْرَ، فَدَعَاهُ فَقَالَ: كَيْفَ قُلْتَ؟ فَقَالَ: (البحر الطويل) ¤ وَدِّعْ سُلَيْمَى إِنْ تَجَهَّزْتَ غَازِيَا ¤ كَفَى الشَّيْبُ وَالإِسْلاَمُ لِلْمَرْءِ نَاهِيَا ¤ فَقَالَ: حَسْبُكَ، صَدَقْتَ صَدَقْتَ.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سائب بن یزید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بسا اوقات قریش کے کچھ لوگ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے دروازے پر بیٹھتے (تاکہ کچھ سیکھیں)، جب سایہ ڈھل جاتا تو فرماتے: اٹھو، اب جو وقت باقی بچا ہے وہ شیطان کے لیے ہے، پھر جس کے پاس سے گزرتے اسے سختی سے اٹھاتے۔ پھر اسی طرح وہ اٹھا رہے تھے کہ ان سے کہا گیا کہ یہ بنو حساس کا غلام ہے جو شعر کہتا ہے۔ انہوں نے اسے بلایا اور پوچھا: تو نے کیا شعر کہا ہے؟ اس نے کہا:
اگر تو نے صبح صبح سفر کا ارادہ کر لیا ہے تو سلیمی کو چھوڑ دے کیونکہ بڑھاپا اور دینِ اسلام انسان کو برائی سے روکنے کے لیے کافی ہیں۔
انہوں نے فرمایا: بس کافی ہیں، تو نے سچ کہا ہے، تو نے سچ کہا۔
اگر تو نے صبح صبح سفر کا ارادہ کر لیا ہے تو سلیمی کو چھوڑ دے کیونکہ بڑھاپا اور دینِ اسلام انسان کو برائی سے روکنے کے لیے کافی ہیں۔
انہوں نے فرمایا: بس کافی ہیں، تو نے سچ کہا ہے، تو نے سچ کہا۔
حدیث نمبر: 1239
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَحْشِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَمُرُّ بِنَا نِصْفَ النَّهَارِ - أَوْ قَرِيبًا مِنْهُ - فَيَقُولُ: قُومُوا فَقِيلُوا، فَمَا بَقِيَ فَلِلشَّيْطَانِ.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سائب بن یزید رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ دوپہر کے وقت ہمارے پاس سے / قریب سے گزرتے تو فرماتے: اٹھو، قیلولہ کر لو، جو وقت باقی ہے وہ شیطان کے لیے ہے۔
حدیث نمبر: 1240
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانُوا يَجْمَعُونَ، ثُمَّ يَقِيلُونَ.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ جمعہ پڑھ کر قیلولہ کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 1241
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ أَنَسٌ: مَا كَانَ لأَهْلِ الْمَدِينَةِ شَرَابٌ، حَيْثُ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ، أَعْجَبَ إِلَيْهِمْ مِنَ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ، فَإِنِّي لَأَسْقِي أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُمْ عِنْدَ أَبِي طَلْحَةَ، مَرَّ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ، فَمَا قَالُوا: مَتَى؟ أَوْ حَتَّى نَنْظُرَ، قَالُوا: يَا أَنَسُ، أَهْرِقْهَا، ثُمَّ قَالُوا عِنْدَ أُمِّ سُلَيْمٍ حَتَّى أَبْرَدُوا وَاغْتَسَلُوا، ثُمَّ طَيَّبَتْهُمْ أُمُّ سُلَيْمٍ، ثُمَّ رَاحُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا الْخَبَرُ كَمَا قَالَ الرَّجُلُ. قَالَ أَنَسٌ: فَمَا طَعِمُوهَا بَعْدُ.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو اہلِ مدینہ کی پسندیدہ شراب خشک اور تر کھجور کی تھی، چنانچہ میں ایک دفعہ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو شراب پلا رہا تھا کہ اس دوران ایک آدمی گزرا تو اس نے کہا: شراب حرام ہوگئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی نہیں پوچھا کہ کب حرام ہوئی یا ہم تحقیق کرتے ہیں بلکہ انہوں نے کہا: اے انس! اس شراب کو ضائع کردو۔ پھر انہوں نے سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے گھر قیلولہ کیا یہاں تک کہ دھوپ کی شدت میں کمی آگئی اور انہوں نے غسل کیا۔ پھر سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے انہیں خوشبو لگائی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو بات اسی طرح تھی جیسے اس آدمی نے کہا تھا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس کے بعد انہوں نے شراب کبھی منہ پر بھی نہیں لگائی۔