کتب حدیثالادب المفردابوابباب: شام کے وقت کیا دعا کرے
حدیث نمبر: 1202
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ عَاصِمٍ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ‏:‏ قَالَ أَبُو بَكْرٍ‏:‏ يَا رَسُولَ اللهِ، عَلِّمْنِي شَيْئًا أَقُولُهُ إِذَا أَصْبَحْتُ وَأَمْسَيْتُ، قَالَ‏:‏ ”قُلِ‏:‏ اللَّهُمَّ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ، رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ، أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي، وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ، قُلْهُ إِذَا أَصْبَحْتَ وَإِذَا أَمْسَيْتَ، وَإِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی دعا سکھائیں جو میں صبح و شام پڑھا کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پڑھا کرو: «اللَّهُمَّ عَالِمَ الْغَيْبِ ...... »اے اللہ! غیب اور حاضر کو جاننے والے، آسمانوں اور زمین کو بنانے والے، ہر چیز کے رب اور مالک۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں اپنے نفس کے شر سے اور شیطان کے شر اور اس کے شرک سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔“ تم صبح و شام اور سوتے وقت یہ دعا پڑھو۔“
حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب الصباح والمساء / حدیث: 1202
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه أبوداؤد ، كتاب الأدب : 5067 و الترمذي : 3393 و النسائي فى الكبريٰ : 7668 - أنظر الصحيحة : 2753»
حدیث نمبر: 1203
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يَعْلَى، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مِثْلَهُ‏.‏ وَقَالَ‏:‏ ”رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ“، وَقَالَ‏:‏ ”شَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے پہلی حدیث کی طرح روایت ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر چیز کے رب اور مالک۔“ نیز فرمایا: ”شیطان کے شر اور اس کے شرک سے۔“
حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب الصباح والمساء / حدیث: 1203
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أنظر ما قبله»
حدیث نمبر: 1204
حَدَّثَنَا خَطَّابُ بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي رَاشِدٍ الْحُبْرَانِيِّ‏:‏ أَتَيْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو فَقُلْتُ لَهُ‏:‏ حَدِّثْنَا بِمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَلْقَى إِلَيَّ صَحِيفَةً فَقَالَ‏:‏ هَذَا مَا كَتَبَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرْتُ فِيهَا، فَإِذَا فِيهَا‏:‏ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ يَا رَسُولَ اللهِ، عَلِّمْنِي مَا أَقُولُ إِذَا أَصْبَحْتُ وَإِذَا أَمْسَيْتُ، فَقَالَ‏:‏ ”يَا أَبَا بَكْرٍ، قُلِ‏:‏ اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي، وَشَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ، وَأَنْ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي سُوءًا أَوْ أَجُرُّهُ إِلَى مُسْلِمٍ‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
ابو راشد جبرانی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے عرض کیا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی کوئی حدیث بیان کریں، انہوں نے مجھے ایک صحیفہ تھماتے ہوئے فرمایا: یہ وہ صحیفہ ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے لکھ کر دیا۔ میں نے اسے دیکھا تو اس میں تھا: بلا شبہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی دعا سکھائیں جو صبح و شام پڑھا کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابو بکر! تم پڑھا کرو: «اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ ...... »اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، غیب اور حاضر کو جاننے والے، ہر چیز کے رب اور مالک، میں تجھ سے اپنے نفس کے شر اور شیطان کے شر اور شرک سے پناہ مانگتا ہوں۔ اور اس بات سے کہ میں اپنی جان کے بارے میں بے جا حرکت کروں یا کسی مسلمان کو تکلیف پہنچاؤں۔“
حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب الصباح والمساء / حدیث: 1204
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه الترمذي ، كتاب الدعوات : 3529 - أنظر الصحيحة : 2763»