حدیث نمبر: 1192
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عُمَرُ - رَجُلٌ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ هُوَ ابْنُ جَابِرٍ - عَنْ وَعْلَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَثَّابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”مَنْ بَاتَ عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ لَيْسَ عَلَيْهِ حِجَابٌ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ.“ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: فِي إِسْنَادِهِ نَظَرٌ.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا علی بن شیبان یمامی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو رات کو ایسے گھر کی چھت پر سویا جس پر پردہ اور رکاوٹ نہ ہو تو اس کی (اللہ تعالیٰ پر) کوئی ذمہ داری نہیں۔“ ابو عبداللہ کہتے ہیں: اس کی سند محل نظر ہے۔
حدیث نمبر: 1193
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ رِيَاحٍ الثَّقَفِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عُمَارَةَ قَالَ: جَاءَ أَبُو أَيُّوبَ الأَنْصَارِيُّ، فَصَعِدْتُ بِهِ عَلَى سَطْحٍ أَجْلَحَ، فَنَزَلَ وَقَالَ: كِدْتُ أَنْ أَبِيتَ اللَّيْلَةَ وَلاَ ذِمَّةَ لِي.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
علی بن عماره رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ تشریف لائے۔ میں انہیں لے کر ایک کھلی چھت پر چڑھ گیا۔ وہ نیچے اتر آئے اور کہا: ممکن تھا میں چت پر رات گزار لیتا اور میری کوئی ذمہ داری نہ ہوتی۔
حدیث نمبر: 1194
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ، عَنْ زُهَيْرٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”مَنْ بَاتَ عَلَى إِنْجَارٍ فَوَقَعَ مِنْهُ فَمَاتَ، بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ، وَمَنْ رَكِبَ الْبَحْرَ حِينَ يَرْتَجُّ - يَعْنِي: يَغْتَلِمُ - فَهَلَكَ بَرِئَتْ مِنْهُ الذِّمَّةُ.“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کھلی چھت پر رات گزاری اور اس سے گر کر مرگیا تو اس کی ذمہ داری نہیں۔ اور جس شخص نے سمندر کی طغیانی کے وقت اس میں سفر کیا اور ہلاک ہو گیا تو اس کا بھی کوئی ذمہ نہیں۔“