حدیث نمبر: 826
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ زَكَرِيَّا قَالَ: حَدَّثَنِي عَامِرٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُطِيعٍ قَالَ: سَمِعْتُ مُطِيعًا يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ، يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ: ”لَا يُقْتَلُ قُرَشِيٌّ صَبْرًا بَعْدَ الْيَوْمِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ“، فَلَمْ يُدْرِكِ الإِسْلاَمَ أَحَدٌ مِنْ عُصَاةِ قُرَيْشٍ غَيْرُ مُطِيعٍ، كَانَ اسْمُهُ الْعَاصَ فَسَمَّاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُطِيعًا.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا مطیع بن اسود عدوی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے روز فرماتے ہوئے سنا: ”آج کے بعد قیامت تک کسی قریشی کو قیدی بنا کر قتل نہیں کیا جائے گا۔“ چنانچہ قریش کے عاص نامی آدمیوں میں سے اس روز سوائے مطیع کے کوئی بھی مسلمان نہ ہوا۔ اس کا نام عاص تھا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام مطیع رکھا۔