حدیث نمبر: 732
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ وَاصِلٍ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ عُرْفُطَةَ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ نَافِعٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَارْتَفَعَتْ رِيحٌ خَبِيثَةٌ مُنْتِنَةٌ ، فَقَالَ : ”أَتَدْرُونَ مَا هَذِهِ ؟ هَذِهِ رِيحُ الَّذِينَ يَغْتَابُونَ الْمُؤْمِنِينَ.“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک بدبودار ہوا اٹھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم جانتے ہو یہ کیا ہے؟ یہ ان لوگوں کی بدبودار ہوا ہے جو اہل ایمان کی غیبت کرتے تھے۔“
حدیث نمبر: 733
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : هَاجَتْ رِيحٌ مُنْتِنَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ”إِنَّ نَاسًا مِنَ الْمُنَافِقِينَ اغْتَابُوا أُنَاسًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، فَبُعِثَتْ هَذِهِ الرِّيحُ لِذَلِكَ .“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو سفیان بن جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں بدبودار ہوا پھوٹی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ منافق لوگوں نے کچھ مسلمانوں کی غیبت کی ہے تو اس وجہ سے یہ ہوا بھیجی گئی ہے۔“
حدیث نمبر: 734
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الشَّامِيِّ ، سَمِعْتُ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ ، يَقُولُ : مَنِ اغْتِيبَ عِنْدَهُ مُؤْمِنٌ فَنَصَرهُ جَزَاهُ اللَّهُ بِهَا خَيْرًا فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ ، وَمَنِ اغْتِيبَ عِنْدَهُ مُؤْمِنٌ فَلَمْ يَنْصُرْهُ جَزَاهُ اللَّهُ بِهَا فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ شَرًّا ، وَمَا الْتَقَمَ أَحَدٌ لُقْمَةً شَرًّا مِنَ اغْتِيَابِ مُؤْمِنٍ ، إِنْ قَالَ فِيهِ مَا يَعْلَمُ ، فَقَدِ اغْتَابَهُ ، وَإِنْ قَالَ فِيهِ بِمَا لا يَعْلَمُ فَقَدْ بَهَتَهُ ۔
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: جس کی موجودگی میں کسی مومن کی غیبت کی گئی اور اس نے اس کی مدد کی اللہ تعالیٰ اس کو دنیا و آخرت میں جزا دے گا۔ اور جس کی موجودگی میں کسی مسلمان کی غیبت کی گئی اور اس نے مدد نہ کی، یعنی دفاع نہ کیا، اللہ تعالیٰ اسے دنیا و آخرت میں برا بدلہ دے گا۔ اور کسی نے مومن کی غیبت سے بڑھ کر کوئی برا لقمہ منہ میں نہیں لیا۔ اگر اس نے ایسی بات کی جو وہ جانتا ہے تو اس نے اس کی غیبت کی، اور اگر اس نے ایسی بات کی جو اس کو معلوم نہیں تو اس نے اس پر بہتان لگایا۔