کتب حدیثالادب المفردابوابباب: آزمائش میں مبتلا ہونے کی دعا کرنا مکروہ ہے
حدیث نمبر: 727
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُمَّ لَمْ تُعْطِنِي مَالا فَأَتَصَدَّقَ بِهِ ، فَابْتَلِنِي بِبَلاءٍ يَكُونُ ، أَوْ قَالَ : فِيهِ أَجْرٌ ، فَقَالَ : ”سُبْحَانَ اللَّهِ ، لا تُطِيقُهُ ، أَلا قُلْتَ : اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً ، وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً ، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ .“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں دعا کی: اے اللہ! تو نے مجھے مال نہیں دیا جس سے میں صدقہ کرتا، لہٰذا مجھے کسی مصیبت ہی میں مبتلا کر دے جس میں میرے لیے اجر ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سبحان اللہ! تم مصیبت برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ تم نے یوں دعا کیوں نہیں کی: اے اللہ ہمیں دنیا میں اچھائی عطا فرما، اور آخرت میں بھی اچھائی عطا فرما، اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔“
حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 727
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «حسن صحيح : و رواه مسلم ، كتاب الذكر و الدعاء : 2688 و الترمذي : 3487 - دون قول الرجل، انظر صحيح أبى داؤد : 1359»
حدیث نمبر: 728
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : دَخَلَ ، قُلْتُ لِحُمَيْدٍ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، دَخَلَ عَلَى رَجُلٍ قَدْ جَهِدَ مِنَ الْمَرَضِ ، فَكَأَنَّهُ فَرْخٌ مَنْتُوفٌ ، قَالَ : ”ادْعُ اللَّهَ بِشَيْءٍ أَوْ سَلْهُ“، فَجَعَلَ يَقُولُ : اللَّهُمَّ مَا أَنْتَ مُعَذِّبِي بِهِ فِي الآخِرَةِ ، فَعَجِّلْهُ فِي الدُّنْيَا ، قَالَ : ”سُبْحَانَ اللَّهِ ، لا تَسْتَطِيعُهُ ، أَوَ قَالَ : لا تَسْتَطِيعُوا ، أَلا قُلْتَ : اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً ، وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً ، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ؟“ وَدَعَا لَهُ ، فَشَفَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ .
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس گئے جو بیماری سے اتنا لاغر ہو چکا تھا جیسے بال نوچا ہوا پرندہ ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ سے کوئی دعا کرو یا (صحت کا) سوال کرو۔“ وہ یوں کہنے لگا: اے اللہ! جو عذاب تو نے مجھے آخرت میں دینا ہے، وہ جلد دنیا ہی میں دے دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سبحان اللہ تم اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ تم نے یہ دعا کیوں نہ کی: اے اللہ! ہمیں دنیا میں اچھائی عطا فرما، اور آخرت میں بھی اچھائی دے، اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔“ پھر اس نے دعا کی تو اللہ عزوجل نے اسے شفا دے دی۔
حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 728
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه مسلم ، كتاب الذكر و الدعاء : 2688»