حدیث نمبر: 623
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ ِ، قَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : ” أَسْرَعُ الدُّعَاءِ إِجَابَةً دُعَاءُ غَائِبٍ لِغَائِبٍ .“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے جلد قبول ہونے والی دعا وہ ہے جو کسی شخص کی دعا کسی دوسرے کے لیے اس کی عدم موجودگی میں کی جائے۔“
حدیث نمبر: 624
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيكٍ الْمَعَافِرِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ، أَنَّهُ سَمِعَ الصُّنَابِحِيَّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : إِنَّ دَعْوَةَ الأَخِ فِي اللَّهِ تُسْتَجَابُ .
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دینی بھائی کی دعا اپنے دینی بھائی کے بارے میں قبول ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 625
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي غَنِيَّةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ ، وَكَانَتْ تَحْتَهُ الدَّرْدَاءُ بِنْتُ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ : قَدِمْتُ عَلَيْهِمُ الشَّامَ ، فَوَجَدْتُ أُمَّ الدَّرْدَاءِ فِي الْبَيْتِ ، وَلَمْ أَجِدْ أَبَا الدَّرْدَاءِ ، قَالَتْ : أَتُرِيدُ الْحَجَّ الْعَامَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَتْ : فَادْعُ اللَّهَ لَنَا بِخَيْرٍ ، فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَقُولُ : ”إِنَّ دَعْوَةَ الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ مُسْتَجَابَةٌ لأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ ، عِنْدَ رَأْسِهِ مَلَكٌ مُوَكَّلٌ ، كُلَّمَا دَعَا لأَخِيهِ بِخَيْرٍ قَالَ : آمِينَ ، وَلَكَ بِمِثْلٍ“، قَالَ : فَلَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فِي السُّوقِ ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ ، يَأْثُرُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا صفوان بن عبداللہ بن صفوان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اور ان کے نکاح میں سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ کی بیٹی درداء تھی، وہ کہتے ہیں کہ میں ان کے پاس شام آیا تو گھر میں سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا تھیں جبکہ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ وہاں موجود نہیں تھے۔ سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کیا تم اس سال حج پر جا رہے ہو؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں! انہوں نے فرمایا: پھر ہمارے لیے بھی خیر کی دعا کرنا، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”بلاشبہ مسلمان آدمی کی دعا جو وہ اپنے بھائی کے لیے اس کی عدم موجودگی میں کرتا ہے، وہ ضرور قبول ہوتی ہے۔ جب وہ دعا کرتا ہے تو ایک فرشتہ اس کے سر کے پاس مقرر کر دیا جاتا ہے۔ جب بھی وہ اپنے بھائی کے لیے بھلائی کی دعا کرتا ہے تو وہ کہتا ہے: آمین اور تجھے بھی ایسا ہی ملے۔“ وہ کہتے ہیں کہ پھر بازار میں مجھے سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ ملے تو انہوں نے اسی طرح کی بات کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کو بیان کیا۔
حدیث نمبر: 626
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَشِهَابٌ قَالا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَلِمُحَمَّدٍ وَحْدَنَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ”لَقَدْ حَجَبْتَهَا عَنْ نَاسٍ كَثِيرٍ .“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے دعا کی: اے اللہ صرف مجھے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بخش دے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے اپنی دعا کو بہت سے لوگوں سے روک لیا ہے۔“
حدیث نمبر: 627
حَدَّثَنَا جَنْدَلُ بْنُ وَالِقٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى ، عَنْ يُونُسَ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فِي الْمَجْلِسِ مِائَةَ مَرَّةٍ : ”رَبِّ اغْفِرْ لِي ، وَتُبْ عَلَيَّ ، وَارْحَمْنِي ، إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ .“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مجلس میں سو مرتبہ یوں استغفار کرتے ہوئے سنا: ”اے پروردگار! مجھے بخش دے، میری توبہ قبول فرما اور مجھ پر رحم فرما، بلاشبہ تو ہی توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔“