کتب حدیثالادب المفردابوابباب: آنکھ دکھنے والے کی عیادت کرنا
حدیث نمبر: 532
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ ، يَقُولُ : رَمِدَتْ عَيْنِي ، فَعَادَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : ”يَا زَيْدُ ، لَوْ أَنَّ عَيْنَكَ لَمَّا بِهَا كَيْفَ كُنْتَ تَصْنَعُ ؟“ قَالَ : كُنْتُ أَصْبِرُ وَأَحْتَسِبُ ، قَالَ : ”لَوْ أَنَّ عَيْنَكَ لَمَّا بِهَا ، ثُمَّ صَبَرْتَ وَاحْتَسَبْتَ كَانَ ثَوَابُكَ الْجَنَّةَ.“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ مجھے آشوب چشم کی تکلیف ہو گئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے، پھر فرمایا: ”اے زید! اگر تمہاری آنکھوں میں تکلیف رہ جاتی تو تم کیا کرتے؟“ میں نے عرض کیا: میں صبر کرتا اور ثواب کی امید رکھتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تیری آنکھیں اسی طرح دکھتی رہتیں اور پھر تم صبر کرتے اور ثواب کی امید رکھتے تو تمہیں اس کے بدلے میں جنت ملتی۔“
حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 532
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف بهذا التمام
تخریج حدیث «ضعيف بهذا التمام : أخرجه أبوداؤد : 3102 ، مختصرًا و رواه أحمد : 19348 و عبد بن حميد : 270 و الطبراني فى الأوسط : 5951»
حدیث نمبر: 533
حَدَّثَنَا مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَنَّ رَجُلا مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ ذَهَبَ بَصَرُهُ ، فَعَادُوهُ ، فَقَالَ : كُنْتُ أُرِيدُهُمَا لأَنْظُرَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَّا إِذْ قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَاللَّهِ مَا يَسُرُّنِي أَنَّ مَا بِهِمَا بِظَبْيٍ مِنْ ظِبَاءِ تَبَالَةَ .
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک صحابی کی بینائی جاتی رہی تو انہوں نے اس کی عیادت کی۔ تو وہ فرمانے لگے: میں آنکھوں کا اس لیے خواہش مند تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا رہوں۔ اب جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا چکے ہیں تو اللہ کی قسم اب مجھے یہ بھی پسند نہیں کہ ان کے بدلے مجھے تبالہ کے ہرنوں کی آنکھیں بھی ملیں۔
حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 533
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف : أخرجه ابن أبى الدنيا فى المتمنين : 149 و ابن سعد فى الطبقات : 313/2»
حدیث نمبر: 534
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ وَابْنُ يُوسُفَ ، قَالا : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ الْهَادِ ، عَنْ عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : ”قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : إِذَا ابْتَلَيْتُهُ بِحَبِيبَتَيْهِ يُرِيدُ عَيْنَيْهِ ، ثُمَّ صَبَرَ عَوَّضْتُهُ الْجَنَّةَ.“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا: جب میں بندے کو اس کی دو محبوب چیزوں، یعنی آنکھوں کے بارے میں آزمائش میں ڈالوں، پھر وہ صبر کرے تو میں اسے اس کے بدلے میں جنت عطا کروں گا۔“
حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 534
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه البخاري ، كتاب المرضى ، باب فضل من ذهب بصره : 5653 و الترمذي : 2400 - انظر المشكاة : 1549»
حدیث نمبر: 535
حَدَّثَنَا خَطَّابٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عَجْلانَ ، وَإِسْحَاقَ بْنِ يَزِيدَ ، قَالا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ثَابِتٌ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ”يَقُولُ اللَّهُ : يَا ابْنَ آدَمَ ، إِذَا أَخَذْتُ كَرِيمَتَيْكَ ، فَصَبَرْتَ عِنْدَ الصَّدْمَةِ وَاحْتَسَبْتَ ، لَمْ أَرْضَ لَكَ ثَوَابًا دُونَ الْجَنَّةِ.“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے ابن آدم جب میں تیری دونوں پیاری آنکھیں لے لوں اور تو اس صدمے پر صبر کرے اور ثواب کی امید رکھے تو میں بھی تیرے لیے ثواب دینے میں جنت کے سوا کسی اور چیز پر راضی نہیں ہوں گا۔“
حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 535
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح
تخریج حدیث «حسن صحيح : أخرجه ابن ماجه ، كتاب الجنائز ، باب ماجاء فى الصبر على المصيبة : 1597 - انظر المشكاة : 1758»