حدیث نمبر: 491
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الْعَلاءِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ الزُّبَيْدِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمان بْنُ عَامِرٍ ، أَنَّ غُطَيْفَ بْنَ الْحَارِثِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ ، وَهُوَ وَجِعٌ ، فَقَالَ : كَيْفَ أَمْسَى أَجْرُ الأَمِيرِ ؟ فَقَالَ : هَلْ تَدْرُونَ فِيمَا تُؤْجَرُونَ بِهِ ؟ فَقَالَ : بِمَا يُصِيبُنَا فِيمَا نَكْرَهُ ، فَقَالَ : إِنَّمَا تُؤْجَرُونَ بِمَا أَنْفَقْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَاسْتُنْفِقَ لَكُمْ ، ثُمَّ عَدَّ أَدَاةَ الرَّحْلِ كُلَّهَا حَتَّى بَلَغَ عِذَارَ الْبِرْذَوْنِ ، وَلَكِنَّ هَذَا الْوَصَبَ الَّذِي يُصِيبُكُمْ فِي أَجْسَادِكُمْ يُكَفِّرُ اللَّهُ بِهِ مِنْ خَطَايَاكُمْ .
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
غطيف بن حارث رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے بتایا کہ ایک آدمی سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی بیماری میں آیا اور کہا: امیر کا اجر و ثواب کس درجے میں ہے؟ انہوں نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ کن چیزوں میں تمہیں اجر دیا جاتا ہے؟ اس آدمی نے کہا: جو ہمیں ناگوار چیزیں پہنچتی ہیں ان پر اجر ملتا ہے۔ سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم جو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے اور جو تم پر خرچ کیا جاتا ہے اس پر اجر ملتا ہے۔ پھر انہوں نے کجاوے کا سارا سامان شمار کیا حتی کہ گھوڑے کی لگام بھی گنی (کہ اس میں بھی اجر ہے) لیکن یہ تکلیف جو تمہیں تمہارے جسموں میں پہنچتی ہے اس سے اللہ تعالیٰ تمہاری خطاؤں کو مٹا دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 492
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : ”مَا يُصِيبُ الْمُسْلِمَ مِنْ نَصَبٍ ، وَلا وَصَبٍ ، وَلاهَمٍّ ، وَلا حَزَنٍ ، وَلا أَذًى ، وَلا غَمٍّ ، حَتَّى الشَّوْكَةُ يُشَاكُهَا ، إِلا كَفَّرَ اللَّهُ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ .“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو سعید خدری اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کو جو بھی دکھ، گھٹن، حزن، ملال اور تکلیف و غم پہنچتا ہے یہاں تک کہ اگر کانٹا ہی لگ جائے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں ضرور اس کی خطائیں معاف فرماتا ہے۔“
حدیث نمبر: 493
حَدَّثَنَا مُوسَىٰ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُوعَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ سَلْمَانَ ، وَعَادَ مَرِيضًا فِي كِنْدَةَ ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ ، قَالَ : أَبْشِرْ ، فَإِنَّ مَرَضَ الْمُؤْمِنِ يَجْعَلُهُ اللَّهُ لَهُ كَفَّارَةً وَمُسْتَعْتَبًا ، وَإِنَّ مَرَضَ الْفَاجِرِ كَالْبَعِيرِ عَقَلَهُ أَهْلُهُ ، ثُمَّ أَرْسَلُوهُ ، فَلَا يَدْرِي لِمَ عُقِلَ وَلِمَ أُرْسِلَ.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
عبدالرحمٰن بن سعید سے روایت ہے کہ وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا۔ انہوں نے کندہ میں ایک مریض کی تیمار داری کی۔ جب وہ مریض کے پاس آئے تو انہوں نے اس سے کہا: خوش ہو جاؤ، بلاشبہ مومن کی بیماری کو اللہ تعالیٰ اس کے لیے گناہوں کا کفارہ اور رضا الٰہی کے حصول کا ذریعہ بنا دیتا ہے۔ اور فاسق، فاجر آدمی کی بیماری ایسے اونٹ کی طرح ہے جس کو اس کے گھر والوں نے باندھ دیا ہو، پھر اس کو چھوڑ دیا۔ اسے معلوم ہی نہیں کہ اسے کیوں باندھا گیا اور کیوں چھوڑا گیا۔
حدیث نمبر: 494
حَدَّثَنَا مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَدِيُّ بْنُ عَدِيٍّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ :” لَا يَزَالُ الْبَلاءُ بِالْمُؤْمِنِ وَالْمُؤْمِنَةِ ، فِي جَسَدِهِ وَأَهْلِهِ وَمَالِهِ ، حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ وَمَا عَلَيْهِ خَطِيئَةٌ.“ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ طَلْحَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو مِثْلَهُ ، وَزَادَ : ”فِي وَلَدِهِ .“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن مرد اور مومن عورت کو تکلیف پہنچتی رہتی ہے، اس کے جسم میں، اس کے اہل و عیال میں اور مال میں یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ملتا ہے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔“ ایک روایت میں اہل و عیال کے ساتھ اولاد کا ذکر بھی ہے۔
حدیث نمبر: 495
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابوبَكْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ”هَلْ أَخَذَتْكَ أُمُّ مِلْدَمٍ؟“ قَالَ : وَمَا أُمُّ مِلْدَمٍ؟ قَالَ : ”حَرٌّ بَيْنَ الْجِلْدِ وَاللَّحْمِ“، قَالَ : لَا ، قَالَ : ”فَهَلْ صُدِعْتَ؟“ قَالَ : وَمَا الصُّدَاعُ ؟ قَالَ : ”رِيحٌ تَعْتَرِضُ فِي الرَّأْسِ ، تَضْرِبُ الْعُرُوقَ“، قَالَ : لَا ، قَالَ : فَلَمَّا قَامَ ، قَالَ : ”مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ “، أَيْ : فَلْيَنْظُرْهُ .
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک (صحت مند) دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”کیا تمہیں کبھی بخار ہوا ہے؟“ اس نے پوچھا: بخار کیا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جلد اور گوشت کے درمیان حرارت پیدا ہو جانا ہے۔“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تمہیں کبھی سر درد ہوا ہے؟“ اس نے کہا: سر درد کیا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک ہوا ہے جو سر میں گھس جاتی ہے اور رگوں پر ضرب لگاتی ہے۔“ اس نے کہا: نہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ جب وہ اٹھ کر چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کسی دوزخی کو دیکھنا پسند کرے وہ اسے دیکھ لے۔“