حدیث نمبر: 471
حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَقَالَتْ: أَمْسِكْ حَتَّى أَخِيطَ نَقْبَتِي فَأَمْسَكْتُ فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، لَوْ خَرَجْتُ فَأَخْبَرْتُهُمْ لَعَدُّوهُ مِنْكِ بُخْلاً، قَالَتْ: أَبْصِرْ شَأْنَكَ، إِنَّهُ لاَ جَدِيدَ لِمَنْ لاَ يَلْبَسُ الْخَلَقَ.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
کثیر بن عبید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے فرمایا: ذرا ٹھہرو میں اپنا پائجامہ سی لوں۔ کثیر بن عبید رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں ٹھہر گیا اور کہا: ام المؤمنین! اگر میں باہر جا کر بتاؤں کہ آپ پرانا کپڑا سی رہی ہیں تو لوگ اسے آپ کی کنجوسی میں شمار کریں گے۔ انہوں نے فرمایا: سمجھ کر بات کرو، بات یہ ہے کہ جو پرانا کپڑا نہ پہنے اس کا نئے کپڑے میں کوئی حق نہیں۔