کتب حدیثالادب المفردابوابباب: آپس کے بگاڑ کو درست کرنے کی فضیلت
حدیث نمبر: 391
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”أَلاَ أُنَبِّئُكُمْ بِدَرَجَةٍ أَفْضَلَ مِنَ الصَّلاَةِ وَالصِّيَامِ وَالصَّدَقَةِ‏؟“‏ قَالُوا‏:‏ بَلَى، قَالَ‏:‏ ”صَلاَحُ ذَاتِ الْبَيْنِ، وَفَسَادُ ذَاتِ الْبَيْنِ هِيَ الْحَالِقَةُ‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں نماز، روزہ اور صدقہ سے بلند درجہ عمل کے متعلق نہ بتاؤں؟“ صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں (ضرور بتائیں)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آپس کے بگاڑ کی اصلاح کرنا۔ اور آپس میں بگاڑ پیدا کرنے کی عادت تو (دین کو) مونڈ کر رکھ دیتی ہے۔“
حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 391
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه أبوداؤد ، كتاب الأدب ، باب فى إصلاح ذات البين : 4919 و الترمذي : 2509 - انظر المشكاة : 5038»
حدیث نمبر: 392
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ الْحُسَيْنِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ‏:‏ ‏ ﴿فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ‏﴾ [الأنفال: 1]، قَالَ‏:‏ هَذَا تَحْرِيجٌ مِنَ اللهِ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَنْ يَتَّقُوا اللَّهَ وَأَنْ يُصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِهِمْ‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے ارشادِ باری تعالیٰ: «﴿فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ﴾» [الأنفال: 1] ”اللہ سے ڈرو اور اپنے باہمی معاملات کی اصلاح کرو“ کے بارے میں فرمایا: اس میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو پابند کر دیا ہے کہ وہ ہر صورت میں اللہ تعالیٰ سے ڈریں اور اپنے معاملات کی اصلاح کریں۔
حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 392
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد موقوفًا و روى نحوه مرفوعًا من حديث ابن عباس
تخریج حدیث «صحيح الإسناد موقوفًا و روى نحوه مرفوعًا من حديث ابن عباس : أخرجه ابن أبى شيبة : 34780 و الطبراني فى تفسيره : 384/13 و البيهقي فى شعب الإيمان : 11084 - التعليق الرغيب : 410/3»