کتب حدیثالادب المفردابوابباب: لوگوں کی ایذا رسانی پر صبر کرنے کی فضیلت
حدیث نمبر: 388
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”الْمُؤْمِنُ الَّذِي يُخَالِطُ النَّاسَ، وَيَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ، خَيْرٌ مِنَ الَّذِي لاَ يُخَالِطُ النَّاسَ، وَلاَ يَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مومن لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہتا ہے اور ان کی ایذا رسانی پر صبر کرتا ہے وہ اس مومن سے بہتر ہے جو لوگوں کے ساتھ مل کر نہیں رہتا اور ان کی ایذا پر صبر نہیں کرتا۔“
حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 388
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه الترمذي ، كتاب القيامة ، باب حدثنا أبوموسىٰ : 2507 و ابن ماجه : 4032 - انظر الصحيحة : 939»