حدیث نمبر: 347
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَارَ أَهْلَ بَيْتٍ مِنَ الأَنْصَارِ، فَطَعِمَ عِنْدَهُمْ طَعَامًا، فَلَمَّا خَرَجَ أَمَرَ بِمَكَانٍ مِنَ الْبَيْتِ، فَنُضِحَ لَهُ عَلَى بِسَاطٍ، فَصَلَّى عَلَيْهِ، وَدَعَا لَهُمْ.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے ایک گھرانے کو شرف زیارت بخشا تو ان کے ہاں کھانا کھایا۔ جب واپس تشریف لانے لگے تو گھر میں ایک جگہ کے بارے (صاف کرنے کا) حکم دیا۔ چنانچہ ایک چٹائی پر چھینٹے مار کر اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بچھا دیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز پڑھی اور ان کے لیے دعا کی۔
حدیث نمبر: 348
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عُمَرَ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ أَبِي خَلْدَةَ قَالَ: جَاءَ عَبْدُ الْكَرِيمِ أَبُو أُمَيَّةَ إِلَى أَبِي الْعَالِيَةِ، وَعَلَيْهِ ثِيَابُ صُوفٍ، فَقَالَ أَبُو الْعَالِيَةِ: إِنَّمَا هَذِهِ ثِيَابُ الرُّهْبَانِ، إِنْ كَانَ الْمُسْلِمُونَ إِذَا تَزَاوَرُوا تَجَمَّلُوا.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
ابو خلدہ سے روایت ہے کہ ابو امیہ عبدالکریم ابو العالیہ کے پاس گئے تو انہوں نے اونی کپڑے پہن رکھے تھے۔ ابو العالیہ نے فرمایا: یہ تو راہبوں کا لباس ہے۔ مسلمانوں کا تو یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے پاس جاتے تو بن سنور کر جاتے۔
حدیث نمبر: 348M
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، عَنْ يَحْيَىٰ ، عَنْ عَبْدِالْمَلِكِ الْعَرْزَمِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُاللہِ مَوْلَي أَسْمَاءَ قَالَ: أَخْرَجَتْ إِلَيَّ أَسْمَاءُ جُبَّةً مِنْ طَيَالِسَةٍ عَلَيْهَا لَبِنَةُ شِبْرٍ مِنْ دِيْبَاجٍ ، وَإِنَّ فَرْجَيْهَا مَكْفُوْفَانِ بِهِ ، فَقَالَتْ : هٰذِه ِجُبَّةُ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَلْبَسُهَا لِلْوُفُودِ ، وَيَوْمَ الْجُمُعَةِ.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام عبداللہ سے روایت ہے کہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے میرے لیے موٹے ریشم کا ایک جبہ نکالا جس کے گلے پر بالشت برابر ریشم کا کام تھا اور چاکوں پر بھی ریشم لگا ہوا تھا۔ انہوں نے فرمایا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جبہ ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم وفود کی آمد کے موقع پر اور جمعہ کے دن زیب تن کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 349
حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ: وَجَدَ عُمَرُ حُلَّةَ إِسْتَبْرَقٍ، فَأَتَى بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: اشْتَرِ هَذِهِ، وَالْبَسْهَا عِنْدَ الْجُمُعَةِ، أَوْ حِينَ تَقْدِمُ عَلَيْكَ الْوُفُودُ، فَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلاَةُ وَالسَّلاَمُ: ”إِنَّمَا يَلْبَسُهَا مَنْ لاَ خَلاَقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ“، وَأُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحُلَلٍ، فَأَرْسَلَ إِلَى عُمَرَ بِحُلَّةٍ، وَإِلَى أُسَامَةَ بِحُلَّةٍ، وَإِلَى عَلِيٍّ بِحُلَّةٍ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرْسَلْتَ بِهَا إِلَيَّ، لَقَدْ سَمِعْتُكَ تَقُولُ فِيهَا مَا قُلْتَ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”تَبِيعُهَا، أَوْ تَقْضِي بِهَا حَاجَتَكَ.“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے موٹے ریشم کا ایک جبہ (فروخت ہوتے) دیکھا تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے آئے اور عرض کیا: (اللہ کے رسول!) آپ یہ جبہ خرید لیں اور جمعہ کے دن اور (ملاقاتی) وفود کی آمد کے موقع پر زیب تن فرما لیا کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ تو صرف وہ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ جبے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو، ایک سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو اور ایک سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے یہ مجھے بھیج دیا ہے حالانکہ آپ نے ایسے جبے کے بارے میں جو فرمایا ہے میں وہ آپ سے سن چکا ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے بیچ دو یا اس کے ذریعے اپنی کوئی ضرورت پوری کر لو۔“