کتب حدیثالادب المفردابوابباب: بہت زیادہ عیب لگانے والے کی مذمت
حدیث نمبر: 327
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِي يَحْيَى حَكِيمِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ‏:‏ لاَ تَكُونُوا عُجُلاً مَذَايِيعَ بُذُرًا، فَإِنْ مِنْ وَرَائِكُمْ بَلاَءً مُبَرِّحًا مُمْلِحًا، وَأُمُورًا مُتَمَاحِلَةً رُدُحًا‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: تم جلد باز، باتوں کو پھیلانے والے اور راز فاش کرنے والے نہ بنو کیونکہ تمہارے بعد مصیبت میں ڈالنے والی آزمائش ہو گی اور فتنوں کا ایسا طویل دور ہو گا جو انسان کو دبا کر رکھ دے گا۔
حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 327
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه المزي فى تهذيب الكمال : 336/22 و رواه العقيلي فى الضعفاء مختصرًا : 13/4 ، قلت : و رواه ابن المبارك : 1438 و أبوداؤد فى الزهد : 146 ، عن ابن مسعود»
حدیث نمبر: 328
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ‏:‏ إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَذْكُرَ عُيُوبَ صَاحِبِكَ، فَاذْكُرْ عُيُوبَ نَفْسِكَ‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے کہا: جب تم اپنے ساتھی کے عیبوں کا تذکرہ کرنے لگو تو پہلے اپنے عیبوں پر ایک نظر ڈال لیا کرو۔
حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 328
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف : أخرجه أحمد فى الزهد : 1046 و ابن أبى الدنيا فى الصمت : 193 و البيهقي فى شعب الإيمان : 6758»
حدیث نمبر: 329
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَبُو مَوْدُودٍ، عَنْ زَيْدٍ مَوْلَى قَيْسٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ‏:‏ ﴿‏وَلَا تَلْمِزُوا أَنْفُسَكُمْ‏﴾ [الحجرات: 11]، قَالَ‏:‏ لاَ يَطْعَنُ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے ارشاد باری تعالیٰ «﴿وَلَا تَلْمِزُوا أَنْفُسَكُمْ﴾» [الحجرات: 11] کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کا مطلب ہے: ”تم ایک دوسرے پر طعن نہ کیا کرو۔“
حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 329
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف : أخرجه ابن أبى الدنيا فى ذم الغيبة : 47 و الحاكم : 463/2 و البيهقي فى شعب الإيمان : 6758»
حدیث نمبر: 330
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ، عَنْ عَامِرٍ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي أَبُو جَبِيرَةَ بْنُ الضَّحَّاكِ قَالَ‏:‏ فِينَا نَزَلَتْ، فِي بَنِي سَلِمَةَ‏:‏ ‏ ﴿وَلَا تَنَابَزُوا بِالأَلْقَابِ﴾ ‏[الحجرات: 11]، قَالَ‏:‏ قَدِمَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ مِنَّا رَجُلٌ إِلاَّ لَهُ اسْمَانِ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ‏:‏ ”يَا فُلاَنُ“، فَيَقُولُونَ‏:‏ يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهُ يَغْضَبُ مِنْهُ‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
ابو جیرہ بن ضحاک سے روایت ہے کہ قرآن مجید کی آیت «﴿وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ﴾» [الحجرات: 11] ”ایک دوسرے کو برے القاب سے نہ پکارو۔“ ہمارے، یعنی بنو سلمہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے تو ہمارے ہر آدمی کے دو نام تھے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کو بلاتے: ”اے فلاں۔“ تو وہ کہتے: اللہ کے رسول! وہ اس نام سے غصہ کرتا ہے۔
حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 330
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : سنن أبى داؤد ، الأدب ، حديث : 4962 - جامع الترمذي ، ح : 3268 و ابن ماجه : 3741 - الصحيحة : 809»
حدیث نمبر: 331
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٍ قَالَ‏:‏ أخبرنا الْفَضْلُ بْنُ مُقَاتِلٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، عَنِ الْحَكَمِ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ يَقُولُ‏:‏ لاَ أَدْرِي أَيُّهُمَا جَعَلَ لِصَاحِبِهِ طَعَامًا، ابْنُ عَبَّاسٍ أَوِ ابْنُ عَمِّهِ، فَبَيْنَا الْجَارِيَةُ تَعْمَلُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ، إِذْ قَالَ أَحَدُهُمْ لَهَا‏:‏ يَا زَانِيَةُ، فَقَالَ‏:‏ مَهْ، إِنْ لَمْ تَحُدَّكَ فِي الدُّنْيَا تَحُدُّكَ فِي الْآخِرَةِ، قَالَ‏:‏ أَفَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ كَذَاكَ‏؟‏ قَالَ‏:‏ إِنَّ اللَّهَ لاَ يُحِبُّ الْفَاحِشَ الْمُتَفَحِّشَ‏.‏ ابْنُ عَبَّاسٍ الَّذِي قَالَ‏:‏ إِنَّ اللَّهَ لاَ يُحِبُّ الْفَاحِشَ الْمُتَفَحِّشَ‏.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
عکرمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس یا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما میں سے کسی ایک نے دوسرے کی دعوت کی۔ ایک لونڈی ان کی خدمت کر رہی تھی تو (اس کی غلطی پر) ان میں سے ایک نے اسے کہا: اے زانیہ! دوسرے ساتھی نے کہا: رک جاؤ! اگر وہ دنیا میں تجھ پر حد نافذ نہیں کرتی تو آخرت میں (اس بہتان کی) حد نافذ کرے گی۔ انہوں نے کہا: اگر وہ ایسی ہی ہو تو پھر تم کیا کہتے ہو؟ دوسرے ساتھی نے جواب دیا: اللہ تعالیٰ بدزبان اور فحش گو کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ تعالیٰ بدزبانی کرنے والے اور فحش گو کو ناپسند کرتا ہے۔
حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 331
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث «حسن : و سيأتي فى الحديث : 1311 ، ن»
حدیث نمبر: 332
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”لَيْسَ الْمُؤْمِنُ بِالطَّعَّانِ، وَلاَ اللِّعَانِ، وَلاَ الْفَاحِشِ، وَلاَ الْبَذِيءِ‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن بہت زیادہ لعن طعن کرنے والا، بدکردار، اور فحش گو نہیں ہوتا۔“
حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 332
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : جامع الترمذي ، البر و الصلة ، ح : 1977»