حدیث نمبر: 284
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّمَيْرِيُّ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتِ بْنِ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”إِنَّ الرَّجُلَ لَيُدْرِكُ بِحُسْنِ خُلُقِهِ دَرَجَةَ الْقَائِمِ بِاللَّيْلِ.“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ آدمی اپنے حسنِ اخلاق کی وجہ سے رات کو مسلسل قیام کرنے والے کا درجہ پا لیتا ہے۔“
حدیث نمبر: 285
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”خَيْرُكُمْ إِسْلاَمًا أَحَاسِنُكُمْ أَخْلاَقًا إِذَا فَقِهُوا.“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام کے اعتبار سے تم میں سب سے اچھے وہ لوگ ہیں جن کے اخلاق سب سے اچھے ہوں جبکہ ان میں دین کی سوجھ بوجھ بھی ہو۔“
حدیث نمبر: 286
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ قَالَ: حَدَّثَنِي ثَابِتُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَجَلَّ إِذَا جَلَسَ مَعَ الْقَوْمِ، وَلاَ أَفْكَهَ فِي بَيْتِهِ، مِنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
ثابت بن عبید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے دوستوں کی مجلس میں پروقار اور گھر میں مزاح کے ساتھ رہنے والا سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر کوئی شخص نہیں دیکھا۔
حدیث نمبر: 287
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الأَدْيَانِ أَحَبُّ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ؟ قَالَ: ”الْحَنِيفِيَّةُ السَّمْحَةُ.“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: اللہ عزوجل کو ادیان میں سے کون سا دین زیادہ محبوب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو یکسوئی اور سادگی والا ہو۔“
حدیث نمبر: 288
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ قَالَ: حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: أَرْبَعُ خِلاَلٍ إِذَا أُعْطِيتَهُنَّ فَلاَ يَضُرُّكَ مَا عُزِلَ عَنْكَ مِنَ الدُّنْيَا: حُسْنُ خَلِيقَةٍ، وَعَفَافُ طُعْمَةٍ، وَصِدْقُ حَدِيثٍ، وَحِفْظُ أَمَانَةٍ.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: چار باتیں اگر تجھ کو مل جائیں تو اس کا کوئی نقصان نہیں کہ دنیا کی باقی چیزیں تجھ سے جاتی رہیں: حسنِ اخلاق، حلال کا کھانا، بات کا سچا ہونا اور امانت کی حفاظت کرنا۔
حدیث نمبر: 289
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ يَزِيدَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”تَدْرُونَ مَا أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ النَّارَ؟ “ قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: ”الأَجْوَفَانِ: الْفَرْجُ وَالْفَمُ، وَأَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ الْجَنَّةَ؟ تَقْوَى اللهِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ.“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جانتے ہو لوگوں کو کیا چیز زیادہ آگ میں لے جائے گی؟“ لوگوں نے عرض کیا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو کھوکھلی چیزیں شرمگاہ اور منہ، اور جو لوگوں کے لیے سب سے زیادہ دخول جنت کا باعث ہو گی وہ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اور حسنِ اخلاق ہے۔“
حدیث نمبر: 290
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَلِيلِ بْنُ عَطِيَّةَ، عَنْ شَهْرٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ قَالَتْ: قَامَ أَبُو الدَّرْدَاءِ لَيْلَةً يُصَلِّي، فَجَعَلَ يَبْكِي وَيَقُولُ: اللَّهُمَّ أَحْسَنْتَ خَلْقِي فَحَسِّنْ خُلُقِي، حَتَّى أَصْبَحَ، قُلْتُ: يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ، مَا كَانَ دُعَاؤُكَ مُنْذُ اللَّيْلَةِ إِلاَّ فِي حُسْنِ الْخُلُقِ؟ فَقَالَ: يَا أُمَّ الدَّرْدَاءِ، إِنَّ الْعَبْدَ الْمُسْلِمَ يَحْسُنُ خُلُقُهُ، حَتَّى يُدْخِلَهُ حُسْنُ خُلُقِهِ الْجَنَّةَ، وَيَسِيءُ خُلُقُهُ، حَتَّى يُدْخِلَهُ سُوءُ خُلُقِهِ النَّارَ، وَالْعَبْدُ الْمُسْلِمُ يُغْفَرُ لَهُ وَهُوَ نَائِمٌ، قُلْتُ: يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ، كَيْفَ يُغْفَرُ لَهُ وَهُوَ نَائِمٌ؟ قَالَ: يَقُومُ أَخُوهُ مِنَ اللَّيْلِ فَيَجْتَهِدُ فَيَدْعُو اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَيَسْتَجِيبُ لَهُ، وَيَدْعُو لأَخِيهِ فَيَسْتَجِيبُ لَهُ فِيهِ.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں کہ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے رات کو اٹھ کر نماز پڑھی تو رونے لگے اور کہہ رہے تھے: اے اللہ تو نے میری شکل و صورت اچھی بنائی ہے تو اخلاق بھی اچھا کر دے۔ صبح تک یہی دعا کرتے رہے۔ میں نے عرض کیا: اے ابو درداء! آپ رات بھر حسنِ اخلاق ہی کی دعا کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: ام درداء! مسلمان بندے کا اخلاق اگر اچھا ہو گا تو اس کا اخلاق اسے جنت میں داخل کر دے گا، اور اگر اخلاق برا ہو گا تو وہ اسے آگ میں داخل کرے گا۔ اور مسلمان بندہ سویا ہوتا ہے تو اسے معاف کر دیا جاتا ہے۔ میں نے کہا: اے ابو درداء! سوئے ہوئے کو کیسے معاف کر دیا جاتا ہے؟ انہوں نے کہا: اس کا بھائی رات کو اٹھ کر تہجد پڑھتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے تو اس کی دعا قبول ہو جاتی ہے، اور وہ اپنے بھائی کے لیے دعا کرتا ہے تو اس کی اپنے بھائی کے بارے میں کی گئی دعا بھی قبول ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 291
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاَقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَاءَتِ الأَعْرَابُ، نَاسٌ كَثِيرٌ مِنْ هَاهُنَا وَهَاهُنَا، فَسَكَتَ النَّاسُ لاَ يَتَكَلَّمُونَ غَيْرَهُمْ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، أَعَلَيْنَا حَرَجٌ فِي كَذَا وَكَذَا؟ فِي أَشْيَاءَ مِنْ أُمُورِ النَّاسِ، لاَ بَأْسَ بِهَا، فَقَالَ: ”يَا عِبَادَ اللهِ، وَضَعَ اللَّهُ الْحَرَجَ، إِلاَّ امْرَءًا اقْتَرَضَ امْرَءًا ظُلْمًا فَذَاكَ الَّذِي حَرِجَ وَهَلَكَ“، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَتَدَاوَى؟ قَالَ: ”نَعَمْ يَا عِبَادَ اللهِ تَدَاوَوْا، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَضَعْ دَاءً إِلاَّ وَضَعَ لَهُ شِفَاءً، غَيْرَ دَاءٍ وَاحِدٍ“، قَالُوا: وَمَا هِيَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: ”الْهَرَمُ“، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا خَيْرُ مَا أُعْطِيَ الإِنْسَانُ؟ قَالَ: ”خُلُقٌ حَسَنٌ.“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (حج کے موقعہ پر) موجود تھا اور دیہاتی آئے۔ بہت سارے لوگ اس طرف سے اور بہت سے اس طرف سے۔ لوگ خاموش ہو گئے اور ان کے علاوہ کوئی بات نہیں کر رہا تھا۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا فلاں فلاں کام کرنے میں کوئی گناہ ہے؟ انہوں نے لوگوں کے بہت سے ایسے امور کا ذکر کیا جن کے کرنے میں کوئی حرج نہیں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے حرج اور تنگی دور کر دی ہے۔ البتہ جس نے ظلماً کسی کا گوشت کھایا تو وہ حرج میں رہا اور ہلاک ہوا۔“ انہوں نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم دوا استعمال کر سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ کے بندو! علاج معالجہ کراؤ، بلاشبہ اللہ عزوجل نے جو بیماری نازل کی ہے اس کی دوا بھی اتاری ہے، سوائے ایک بیماری کے۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کون سی بیماری ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بڑھاپا۔“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! انسان کو سب سے بہتر اور اچھی چیز کون سی عطا کی گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا اخلاق۔“
حدیث نمبر: 292
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ بِالْخَيْرِ، وَكَانَ أَجْوَدَ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ، حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ جِبْرِيلُ يَلْقَاهُ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ، يَعْرِضُ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقُرْآنَ، فَإِذَا لَقِيَهُ جِبْرِيلُ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے زیادہ سخی تھے اور تمام اوقات میں سب سے زیادہ سخی اس وقت ہوتے جب رمضان میں جبریل امین علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتے، اور جبریل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رمضان کی ہر رات میں ملتے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن کا دور فرماتے۔ اور جب جبریل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیز ہوا سے بھی زیادہ سخاوت کرتے۔
حدیث نمبر: 293
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”حُوسِبَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ مِنَ الْخَيْرِ إِلاَّ أَنَّهُ كَانَ رَجُلاً يُخَالِطُ النَّاسَ وَكَانَ مُوسِرًا، فَكَانَ يَأْمُرُ غِلْمَانَهُ أَنْ يَتَجَاوَزُوا عَنِ الْمُعْسِرِ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: فَنَحْنُ أَحَقُّ بِذَلِكَ مِنْهُ، فَتَجَاوَزَ عَنْهُ.“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے پہلے والے لوگوں میں سے ایک آدمی کا حساب لیا گیا تو اس کے نامہ اعمال میں اس کے سوا کوئی نیکی نہیں تھی کہ وہ لوگوں سے میل جول رکھتا تھا اور خوشحال تھا، چنانچہ وہ اپنے نوکروں چاکروں کو حکم دیتا کہ تنگ دست سے تجاوز کرو۔ اللہ عزوجل نے فرمایا: ہم اس کی نسبت اس (عفو و درگزر) کے زیادہ حق دار ہیں، اس لیے اس نے اسے معاف کر دیا۔“
حدیث نمبر: 294
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، عَنِ ابْنِ إِدْرِيسَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ جَدِّي، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ الْجَنَّةَ؟ قَالَ: ”تَقْوَى اللهِ، وَحُسْنُ الْخُلُقِ“، قَالَ: وَمَا أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ النَّارَ؟ قَالَ: ”الأَجْوَفَانِ: الْفَمُ وَالْفَرْجُ.“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: جنت میں سب سے زیادہ کیا چیز داخل کرے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کا تقویٰ اور حسنِ اخلاق۔“ سائل نے پوچھا: جہنم میں جانے کا کیا چیز زیادہ باعث بنے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو کھوکھلی چیزیں: منہ اور شرمگاہ۔“
حدیث نمبر: 295
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ نَوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبِرِّ وَالإِثْمِ؟ قَالَ: ”الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ، وَالإِثْمُ مَا حَكَّ فِي نَفْسِكَ وَكَرِهْتَ أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِ النَّاسُ.“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا نواس بن سمعان انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نیکی اور گناہ کے متعلق دریافت کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نیکی حسنِ اخلاق کا نام ہے، اور گناہ وہ ہے جو تیرے سینے میں کھٹکے اور تو ناپسند کرے کہ لوگ اس پر مطلع ہوں۔“