حدیث نمبر: 281
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ اللَّجْلاَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”لاَ يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي جَوْفِ عَبْدٍ أَبَدًا، وَلاَ يَجْتَمِعُ الشُّحُّ وَالإِيمَانُ فِي قَلْبِ عَبْدٍ أَبَدًا.“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی بندے کے پیٹ میں اللہ کی راہ میں پڑنے والا غبار اور جہنم کا دھواں کبھی اکٹھے نہیں ہو سکتے، اسی طرح بخل اور ایمان بھی کسی بندے کے دل میں اکٹھے نہیں ہو سکتے۔“
حدیث نمبر: 282
حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى هُوَ أَبُو الْمُغِيرَةِ السُّلَمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ غَالِبٍ هُوَ الْحُدَّانِيُّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”خَصْلَتَانِ لاَ يَجْتَمِعَانِ فِي مُؤْمِنٍ: الْبُخْلُ وَسُوءُ الْخُلُقِ.“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مومن میں دو خصلتیں اکٹھی نہیں ہو سکتیں: بخل اور بداخلاقی۔“
حدیث نمبر: 283
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عَبْدِ اللهِ، فَذَكَرُوا رَجُلاً، فَذَكَرُوا مِنْ خُلُقِهِ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: أَرَأَيْتُمْ لَوْ قَطَعْتُمْ رَأْسَهُ أَكُنْتُمْ تَسْتَطِيعُونَ أَنْ تُعِيدُوهُ؟ قَالُوا: لاَ، قَالَ: فَيَدُهُ؟ قَالُوا: لاَ، قَالَ: فَرِجْلُهُ؟ قَالُوا: لاَ، قَالَ: فَإِنَّكُمْ لاَ تَسْتَطِيعُونَ أَنْ تُغَيِّرُوا خُلُقَهُ حَتَّى تُغَيِّرُوا خَلْقَهُ، إِنَّ النُّطْفَةَ لَتَسْتَقِرُّ فِي الرَّحِمِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً، ثُمَّ تَنْحَدِرُ دَمًا، ثُمَّ تَكُونُ عَلَقَةً، ثُمَّ تَكُونُ مُضْغَةً، ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ مَلَكًا فَيُكْتَبُ رِزْقَهُ وَخُلُقَهُ، وَشَقِيًّا أَوْ سَعِيدًا.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
عبداللہ بن ربیعہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہم سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے کہ انہوں نے ایک آدمی کا ذکر کیا تو اس کے اخلاق کی بھی بات کی تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: دیکھو! اگر تم اس کا سر کاٹ دو تو کیا اسے دوبارہ جوڑ سکتے ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے فرمایا: تو اس کا ہاتھ؟ وہ کہنے لگے: نہیں۔ انہوں نے فرمایا: اس کی ٹانگ؟ انہوں نے کہا: نہیں! سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب تم اس کی خلقت کو نہیں بدل سکتے تو اس کا اخلاق بھی نہیں بدل سکتے، بلاشبہ نطفہ رحم میں چالیس راتوں تک قرار پکڑتا ہے، پھر وہ خون کی شکل اختیار کر لیتا ہے، پھر علقہ (جما ہوا خون) بن جاتا ہے، پھر گوشت کا لوتھڑا بن جاتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ بھیجتا ہے جو اس کا رزق، اس کا اخلاق اور اس کا بدبخت یا سعادت مند ہونا لکھتا ہے۔