حدیث نمبر: 276
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ، وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ.“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مالداری کثرت مال کا نام نہیں بلکہ مالداری نفس کی مالداری ہے۔“
حدیث نمبر: 277
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: خَدَمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ، فَمَا قَالَ لِي: أُفٍّ، قَطُّ، وَمَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ لَمْ أَفْعَلْهُ: أَلاَ كُنْتَ فَعَلْتَهُ؟ وَلاَ لِشَيْءٍ فَعَلْتُهُ: لِمَ فَعَلْتَهُ؟.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے دس سال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کبھی اف تک نہیں کہا، اور اگر میں نے کوئی کام نہیں کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی یہ نہیں کہا: تو نے یہ کیوں نہیں کیا؟ اور نہ کبھی ایسا ہوا کہ میں نے کوئی کام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہا ہو کہ تو نے یہ کیوں کیا۔
حدیث نمبر: 278
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الاسْوَدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَا سَحَّامَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَصَمِّ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا، وَكَانَ لاَ يَأْتِيهِ أَحَدٌ إِلاَّ وَعَدَهُ، وَأَنْجَزَ لَهُ إِنْ كَانَ عِنْدَهُ، وَأُقِيمَتِ الصَّلاَةُ، وَجَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ فَأَخَذَ بِثَوْبِهِ فَقَالَ: إِنَّمَا بَقِيَ مِنْ حَاجَتِي يَسِيرَةٌ، وَأَخَافُ أَنْسَاهَا، فَقَامَ مَعَهُ حَتَّى فَرَغَ مِنْ حَاجَتِهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ فَصَلَّى.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بڑے رحیم و شفیق تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو (سائل) بھی آتا (نہ ہونے کی صورت میں) اس سے وعدہ فرما لیتے اور اگر ہوتا تو اسے ضرور دیتے۔ ایک دفعہ نماز کی اقامت ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دیہاتی آیا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پلو پکڑ لیا اور کہا: میرا بس تھوڑا سا کام رہ گیا ہے، مجھے خدشہ ہے کہ پھر بھول نہ جاؤں اس لیے میری بات سن لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ کھڑے رہے حتی کہ اس نے اپنی بات پوری کر لی تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آ کر نماز پڑھائی۔
حدیث نمبر: 279
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: مَا سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فَقَالَ: لَا.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جس بھی چیز کے متعلق سوال کیا گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ نہیں فرمایا۔
حدیث نمبر: 280
حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ قَالَ: أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: مَا رَأَيْتُ امْرَأَتَيْنِ أَجْوَدَ مِنْ عَائِشَةَ، وَأَسْمَاءَ، وَجُودُهُمَا مُخْتَلِفٌ، أَمَّا عَائِشَةُ فَكَانَتْ تَجْمَعُ الشَّيْءَ إِلَى الشَّيْءِ، حَتَّى إِذَا كَانَ اجْتَمَعَ عِنْدَهَا قَسَمَتْ، وَأَمَّا أَسْمَاءُ فَكَانَتْ لاَ تُمْسِكُ شَيْئًا لِغَدٍ.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: میں نے عورتوں میں سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے زیادہ سخی عورت نہیں دیکھی اور ان کی سخاوت کی کیفیت جدا جدا تھی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مال جمع کرتی تھیں، جب ان کے پاس کچھ مال جمع ہو جاتا تو اسے خرچ کر دیتیں جبکہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کل کے لیے کچھ نہیں روکتی تھیں (جو ہوتا خرچ کر دیتیں)۔