کتب حدیثالادب المفردابوابباب: عورت کے ذمہ دار ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 214
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا سَالِمٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ‏:‏ ”كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، الإِمَامُ رَاعٍ وَهُوَ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ فِي أَهْلِهِ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا، وَالْخَادِمُ فِي مَالِ سَيِّدِهِ“، سَمِعْتُ هَؤُلاَءِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَحْسَبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”وَالرَّجُلُ فِي مَالِ أَبِيهِ‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”تم میں سے ہر ایک ذمہ دار ہے اور ہر ایک سے اس کی ذمہ داری کے متعلق باز پرس ہو گی۔ حاکم وقت ذمہ دار ہے اور اس سے اس کی رعیت کے متعلق باز پرس ہو گی۔ آدمی اپنے گھر والوں کا ذمہ دار ہے، اور عورت اپنے خاوند کے گھر میں ذمہ دار ہے، اور خادم اپنے آقا کے مال کا ذمہ دار ہے۔“ میں نے یہ کلمات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنے ہیں، میرا خیال ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: ”اور آدمی اپنے باپ کے گھر میں ذمہ دار ہے۔“
حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 214
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه البخاري ، كتاب الاستقراض ، باب العبد راع فى مال سيده و لا يعمل إلا باذنه : 2409 و مسلم : 1829»