کتب حدیثالادب المفردابوابباب: خادم کو ادب سکھانا
حدیث نمبر: 170
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُسَيْطٍ قَالَ‏:‏ أَرْسَلَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ غُلاَمًا لَهُ بِذَهَبٍ أَوْ بِوَرِقٍ، فَصَرَفَهُ، فَأَنْظَرَ بِالصَّرْفِ، فَرَجَعَ إِلَيْهِ فَجَلَدَهُ جَلْدًا وَجِيعًا وَقَالَ‏:‏ اذْهَبْ، فَخُذِ الَّذِي لِي، وَلاَ تَصْرِفْهُ‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
یزید بن عبداللہ بن قسیط سے مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے کسی غلام کو سونا یا چاندی دے کر بھیجا۔ اس نے بیع صرف کی تو اس میں ادھار کر لیا۔ جب واپس آیا تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کی سخت پٹائی کی اور فرمایا: جاؤ، میری چیز واپس لے آؤ اور بیع صرف نہ کرو۔
حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 170
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث «حسن : »
حدیث نمبر: 171
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ‏:‏ كُنْتُ أَضْرِبُ غُلاَمًا لِي، فَسَمِعْتُ مِنْ خَلْفِي صَوْتًا‏:‏ ”اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ، لَلَّهُ أَقْدَرُ عَلَيْكَ مِنْكَ عَلَيْهِ“، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا هُوَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ‏:‏ يَا رَسُولَ اللهِ، فَهُوَ حُرٌّ لِوَجْهِ اللهِ، فَقَالَ‏:‏ ”أَمَا لَوْ لَمْ تَفْعَلْ لَمَسَّتْكَ النَّارُ أَوْ لَلَفَحَتْكَ النَّارُ‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو مسعود عقبہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اپنے ایک غلام کو مار رہا تھا کہ اچانک اپنے پیچھے سے ایک آواز سنی: ”ابو مسعود! جان لو کہ اللہ تجھ پر اس سے زیادہ قدرت رکھتا ہے جتنی تم اس پر رکھتے ہو۔“ میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ اللہ کی رضا کے لیے آزاد ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم ایسا نہ کرتے تو تجھے ضرور جہنم کی آگ چھوتی۔“ یا فرمایا: ”آگ تجھے ضرور اپنی لپیٹ میں لے لیتی۔“
حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 171
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه مسلم ، كتاب الإيمان ، باب صحبة المماليك : 1659 و أبوداؤد : 5159 و الترمذي : 1948»