کتب حدیثالادب المفردابوابباب: غلام یا باندی سے گناہ ہو جائے تو کیا کرے
حدیث نمبر: 166
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ‏:‏ انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَدَفَعَ الرَّاعِي فِي الْمُرَاحِ سَخْلَةً، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏ ”لاَ تَحْسِبَنَّ، وَلَمْ يَقُلْ‏:‏ لاَ تَحْسَبَنَّ إِنَّ لَنَا غَنَمًا مِئَةً لاَ نُرِيدُ أَنْ تَزِيدَ، فَإِذَا جَاءَ الرَّاعِي بِسَخْلَةٍ ذَبَحْنَا مَكَانَهَا شَاةً“، فَكَانَ فِيمَا قَالَ‏:‏ ”لاَ تَضْرِبْ ظَعِينَتَكَ كَضَرْبِكَ أَمَتَكَ، وَإِذَا اسْتَنْشَقْتَ فَبَالِغْ، إِلاَّ أَنْ تَكُونَ صَائِمًا‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور چرواہے نے بکری کا ایک بچہ باڑے میں داخل کیا۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بکری ذبح کرنے کا حکم دیا) اور فرمایا: ”تم کچھ خیال نہ کرنا۔ ہماری سو بکریاں ہیں، ہم انہیں سو سے نہیں بڑھنے دیتے۔ جب چرواہا کوئی نیا پیدا شدہ بچہ لاتا ہے تو ہم اس کی جگہ ایک بکری ذبح کر لیتے ہیں۔“ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو باتیں ارشاد فرمائیں ان میں یہ بھی تھا: ”اپنی بیوی کو لونڈی کی طرح نہ مارو، اور وضو کرتے وقت ناک میں پانی چڑھاتے ہوئے خوب مبالغہ کرو الا یہ کہ تم روزے سے ہو (تو پھر مبالغہ نہ کرو)۔“
حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 166
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه أبوداؤد ، الطهارة ، باب فى الاستنشار : 142 - أخرجه الحاكم فى المستدرك : 148/1 و وافقه الذهبي»