حدیث نمبر: 159
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ لِلنَّاسِ: نَحْنُ أَعْرَفُ بِكُمْ مِنَ الْبَيَاطِرَةِ بِالدَّوَابِّ، قَدْ عَرَفْنَا خِيَارَكُمْ مِنْ شِرَارِكُمْ. أَمَّا خِيَارُكُمُ: الَّذِي يُرْجَى خَيْرُهُ، وَيُؤْمَنُ شَرُّهُ. وَأَمَّا شِرَارُكُمْ: فَالَّذِي لاَ يُرْجَى خَيْرُهُ، وَلاَ يُؤْمَنُ شَرُّهُ، وَلاَ يُعْتَقُ مُحَرَّرُهُ.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ لوگوں سے کہا کرتے تھے: ہم تمہیں اس سے زیادہ جانتے ہیں جتنا جانوروں کا علاج کرنے والے جانوروں کو جانتے ہیں۔ ہم ان لوگوں کو بھی جانتے ہیں جو تم میں اچھے ہیں اور انہیں بھی جو تم میں برے ہیں۔ تمہارے اچھے لوگ وہ ہیں جن سے بھلائی کی امید کی جاتی ہے اور جن کے شر سے لوگوں کو اطمینان ہو۔ اور برے وہ لوگ ہیں جن سے خیر کی امید نہیں کی جاتی اور ان کے شر سے بھی امان نہیں اور ان کا آزاد کردہ بھی آزاد نہیں ہوتا۔
حدیث نمبر: 160
حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنِ ابْنِ هَانِئٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: الْكَنُودُ: الَّذِي يَمْنَعُ رِفْدَهُ، وَيَنْزِلُ وَحْدَهُ، وَيَضْرِبُ عَبْدَهُ.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ناشکرا وہ ہے جو اپنے عطیات روک لیتا ہے، اور (سفر) میں علیحدہ پڑاؤ ڈالتا ہے، اور اپنے غلام کو مارتا ہے۔
حدیث نمبر: 161
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَحَمَّادٍ، عَنْ حَبِيبٍ، وَحُمَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ رَجُلاً أَمَرَ غُلاَمًا لَهُ أَنْ يَسْنُوَ عَلَى بَعِيرٍ لَهُ، فَنَامَ الْغُلاَمُ، فَجَاءَ بِشُعْلَةٍ مِنْ نَارٍ فَأَلْقَاهَا فِي وَجْهِهِ، فَتَرَدَّى الْغُلاَمُ فِي بِئْرٍ، فَلَمَّا أَصْبَحَ أَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَرَأَى الَّذِي فِي وَجْهِهِ، فَأَعْتَقَهُ.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنے غلام کو اپنے اونٹ پر پانی لانے کا حکم دیا لیکن غلام سو گیا (اور پانی نہ لایا) تو اس نے آگ کا ایک شعلہ لا کر اس کے چہرے پر ڈال دیا۔ غلام (گھبرا کر بھاگا تو) ایک کنویں میں گر گیا۔ جب صبح ہوئی تو وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا (اور صورتِ حال بتائی) تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جب اس کا چہرہ دیکھا تو اسے آزاد کر دیا۔