حدیث نمبر: 113
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلاَثٍ: ”أَسْمَعُ وَأُطِيعُ وَلَوْ لِعَبْدٍ مُجَدَّعِ الأَطْرَافِ، وَإِذَا صَنَعْتَ مَرَقَةً فَأَكْثِرْ مَاءَهَا، ثُمَّ انْظُرْ أَهْلَ بَيْتٍ مِنْ جِيرَانِكَ، فَأَصِبْهُمْ مِنْهُ بِمَعْرُوفٍ، وَصَلِّ الصَّلاَةَ لِوَقْتِهَا، فَإِنْ وَجَدْتَ الإِمَامَ قَدْ صَلَّى، فَقَدْ أَحْرَزْتَ صَلاَتَكَ، وَإِلاَّ فَهِيَ نَافِلَةٌ.“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین باتوں کی وصیت فرمائی: ”میں (امیر کی) بات سنوں اور اطاعت کروں خواہ وہ کان کٹا غلام ہی ہو۔ (اور فرمایا:) جب تم شوربا بناؤ تو اس میں پانی زیادہ ڈالو، پھر اپنے پڑوس کے (غریب) گھروں کو دیکھو اور اس شوربے میں سے کچھ دستور کے مطابق انہیں بھیج دو۔ اور نماز کو اس کے وقت مقررہ پر ادا کرو۔ اور اگر تم (نماز گھر وغیرہ میں پڑھ کر مسجد آؤ اور) امام کو اس حالت میں پاؤ کہ اس نے نماز پڑھا دی ہے، تو تم نے اپنی (گھر میں پڑھی گئی) نماز کو محفوظ کر لیا، ورنہ (اگر وہ نماز پڑھا رہا ہے تو تم اس کے ساتھ نماز پڑھ لو) تمہاری یہ (دوسری) نماز نفل ہو جائے گی۔“
حدیث نمبر: 114
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”يَا أَبَا ذَرٍّ، إِذَا طَبَخْتَ مَرَقَةً فَأَكْثِرْ مَاءَ الْمَرَقَةِ، وَتَعَاهَدْ جِيرَانَكَ، أَوِ اقْسِمْ فِي جِيرَانِكَ.“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب
(ایک دوسری سند سے) سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابو ذر! جب تم شوربہ پکاؤ تو اس میں پانی زیادہ ڈالو، اور اپنے پڑوسیوں کا خیال رکھو“، یا فرمایا: ”اپنے ہمسایوں میں بھی تقسیم کرو۔“