حدیث نمبر: 98
وَعَنْ عَبْدَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ‏:‏ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسٌ مِنَ الأعْرَابِ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْهُمْ‏:‏ يَا رَسُولَ اللهِ، أَتُقَبِّلُونَ الصِّبْيَانَ، فَوَاللَّهِ مَا نُقَبِّلُهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏ ”أَوَ أَمْلِكُ إِنْ كَانَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ نَزَعَ مِنْ قَلْبِكَ الرَّحْمَةَ‏؟.“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں کہ کچھ دیہاتی لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو ان میں سے ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ بچوں کو بوسہ دیتے ہیں؟ اللہ کی قسم! ہم تو انہیں بوسہ نہیں دیتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کیا کر سکتا ہوں اگر اللہ نے تیرے دل سے رحمت نکال دی ہے۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 98
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : تقدم برقم : 90»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس روایت کے فوائد کے لیے حدیث:۹۰ ملاحظہ فرمائیں۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 98 سے ماخوذ ہے۔