الادب المفرد
كتاب— كتاب
بَابُ مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا خَدِرَتْ رِجْلُهُ باب: پاؤں سن ہو جانے پر کیا کہے؟
حدیث نمبر: 964
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: خَدِرَتْ رِجْلُ ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: اذْكُرْ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَيْكَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
عبدالرحمٰن بن سعد رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا پاؤں سن ہو گیا تو ان سے ایک آدمی نے کہا: اپنے محبوب ترین شخص کا نام لو (تو ٹھیک ہو جائے گا)، انہوں نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ کسی آدمی کا نام مدد حاصل کرنے کی نیت سے لیا جائے گا تو یہ صریح شرک ہو گا۔ پریشانی کے وقت صرف اللہ تعالیٰ کو پکارا جائے گا۔
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ کسی آدمی کا نام مدد حاصل کرنے کی نیت سے لیا جائے گا تو یہ صریح شرک ہو گا۔ پریشانی کے وقت صرف اللہ تعالیٰ کو پکارا جائے گا۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 964 سے ماخوذ ہے۔