الادب المفرد
كتاب— كتاب
بَابُ تَحْرِيكِ الرَّأْسِ وَعَضِّ الشَّفَتَيْنِ عِنْدَ التَّعَجُّبِ باب: تعجب کے وقت سر ہلانا اور ہونٹوں کو دانتوں میں دبانا
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ الصَّامِتِ قَالَ: سَأَلْتُ خَلِيلِي أَبَا ذَرٍّ، فَقَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوءٍ، فَحَرَّكَ رَأْسَهُ، وَعَضَّ عَلَى شَفَتَيْهِ، قُلْتُ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي آذَيْتُكَ؟ قَالَ: ”لَا، وَلَكِنَّكَ تُدْرِكُ أُمَرَاءَ أَوْ أَئِمَّةً يُؤَخِّرُونَ الصَّلاَةَ لِوَقْتِهَا“، قُلْتُ: فَمَا تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: ”صَلِّ الصَّلاَةَ لِوَقْتِهَا، فَإِنْ أَدْرَكْتَ مَعَهُمْ فَصَلِّهِ، وَلاَ تَقُولَنَّ: صَلَّيْتُ، فَلاَ أُصَلِّي.“سیدنا عبداللہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے اپنے خلیل سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں وضو کا پانی لے کر حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر مبارک کو جنبش دی اور ہونٹوں کو دانتوں میں دبایا۔ میں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان، میں نے آپ کو تکلیف دی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، لیکن تم ایسے امراء یا ائمہ دیکھو گے جو نماز کو وقت سے مؤخر کر کے پڑھیں گے۔“ میں نے عرض کیا: تو آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم بر وقت نماز پڑھو، اور پھر اگر ان کے ساتھ نماز پاؤ تو بھی پڑھ لو، اور یہ نہ کہو کہ میں نے نماز پڑھ لی ہے، لہٰذا میں نماز نہیں پڑھوں گا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
اس سے معلوم ہوا کہ تعجب کے وقت ایسے کرنا مروّت کے خلاف نہیں ہے، نیز نماز کو اس کے اوّل وقت میں ادا کرنا مستحب ہے اور اگر امام نماز زیادہ تاخیر سے پڑھتا ہو تو بروقت علیحدہ نماز پڑھ لینی چاہیے اور اگر کسی فتنے کا ڈر ہو تو بعد میں امام کے ساتھ بھی پڑھ لینی چاہیے اور وہ نفل ہو جائیں گے۔