الادب المفرد
كتاب العطاس والتثاؤب— كتاب العطاس والتثاؤب
بَابُ قِيَامِ الرَّجُلِ لأَخِيهِ باب: کسی مسلمان بھائی کی آمد پر کھڑا ہونا
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ كَعْبٍ، وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ مِنْ بَنِيهِ حِينَ عَمِيَ، قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ حَدِيثَهُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَتَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ: وَآذَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَوْبَةِ اللهِ عَلَيْنَا حِينَ صَلَّى صَلاَةَ الْفَجْرَ، فَتَلَقَّانِي النَّاسُ فَوْجًا فَوْجًا، يُهَنُّونِي بِالتَّوْبَةِ يَقُولُونَ: لِتَهْنِكَ تَوْبَةُ اللهِ عَلَيْكَ، حَتَّى دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَوْلَهُ النَّاسُ، فَقَامَ إِلَيَّ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ يُهَرْوِلُ، حَتَّى صَافَحَنِي وَهَنَّانِي، وَاللَّهِ مَا قَامَ إِلَيَّ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ غَيْرُهُ، لا أَنْسَاهَا لِطَلْحَةَ.سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ تبوک میں جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھا کر ہماری توبہ کا اعلان کیا، تو لوگ فوج در فوج مجھ سے ملے اور توبہ کی مبارک باد دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے: مبارک ہو اللہ نے تمہاری توبہ قبول کر لی ہے۔ یہاں تک کہ میں مسجد نبوی میں داخل ہو گیا۔ وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد لوگ بیٹھے تھے۔ سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ دوڑتے ہوئے میری طرف بڑھے۔ مصافحہ کیا اور مجھے مبارک باد دی۔ اللہ کی قسم مہاجرین میں سے ان کے سوا کوئی میری طرف اٹھ کر نہ آیا۔ میں طلحہ کی یہ بات کبھی نہیں بھول سکتا۔