حدیث نمبر: 942
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَكْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو جماہی آئے تو اسے ممکن حد تک روکے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
گزشتہ اوراق میں یہ وضاحت گزر چکی ہے کہ جماہی شیطان کی طرف سے ہے اور کاہلی کی نشانی ہے جسے حتی الوسع روکنا چاہیے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ منہ کے آگے ہاتھ رکھا جائے اور روکنے کی کوشش کی جائے اور آواز بھی نہ نکالی جائے۔
گزشتہ اوراق میں یہ وضاحت گزر چکی ہے کہ جماہی شیطان کی طرف سے ہے اور کاہلی کی نشانی ہے جسے حتی الوسع روکنا چاہیے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ منہ کے آگے ہاتھ رکھا جائے اور روکنے کی کوشش کی جائے اور آواز بھی نہ نکالی جائے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 942 سے ماخوذ ہے۔