حدیث نمبر: 940
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ الدَّيْلَمِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ‏:‏ كَانَ الْيَهُودُ يَتَعَاطَسُونَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَاءَ أَنْ يَقُولَ لَهُمْ‏:‏ ”يَرْحَمُكُمُ اللَّهُ، فَكَانَ يَقُولُ‏:‏ يَهْدِيكُمُ اللَّهُ، وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ‏.‏“ ¤ حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَكِيمُ بْنُ الدَّيْلَمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، مِثْلَهُ.
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہودی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس امید سے چھینکتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں «يرحمكم الله» کے ساتھ دعا دیں گے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: «يهديكم الله ويصلح بالكم» اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہارے حال کو درست کرے۔
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ ہی سے دوسری سند کے ساتھ اسی طرح مروی ہے۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب العطاس والتثاؤب / حدیث: 940
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : جامع الترمذي ، الأدب ، ح : 2739 و سنن أبى داؤد ، الأدب ، ح : 5038»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس سے معلوم ہوا کہ اہل کتاب یہود و نصاریٰ اور دیگر کافروں کو چھینک کا جواب نہیں دینا چاہیے خواہ وہ الحمدللہ کہہ بھی لیں، تاہم ان کے لیے ہدایت کی دعا ضرور کرنی چاہیے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 940 سے ماخوذ ہے۔