حدیث نمبر: 94
حَدَّثَنَا ابْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، عَنِ الْوَصَّافِيِّ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ‏:‏ إِنَّمَا سَمَّاهُمُ اللَّهُ أَبْرَارًا، لأَنَّهُمْ بَرُّوا الْآبَاءَ وَالأَبْنَاءَ، كَمَا أَنَّ لِوَالِدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، كَذَلِكَ لِوَلَدِكَ عَلَيْكَ حَقٌّ‏.‏
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ان کا نام (قرآن میں) ابرار رکھا ہے، کیونکہ انہوں نے اپنے آباء و اجداد اور بچوں سے حسنِ سلوک کیا ہے۔ جس طرح تیرے والدین کا تجھ پر حق ہے، اسی طرح تیری اولاد کا بھی تجھ پر حق ہے۔

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب / حدیث: 94
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف : رواه الطبراني فى الكبير مرفوعًا : 13814 و أبونعيم فى الحلية : 32/10 - الضعيفة : 3221»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
یہ روایت و صافي کی وجہ سے ضعیف ہے، تاہم والدین اور اولاد کے حقوق کی صراحت دیگر احادیث میں وارد ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 94 سے ماخوذ ہے۔