الادب المفرد
كتاب العطاس والتثاؤب— كتاب العطاس والتثاؤب
بَابُ مَنْ قَالَ : يَرْحَمُكَ إِنْ كُنْتَ حَمِدْتَ اللهَ باب: جس نے کہا: اللہ تجھ پر رحم کرے اگر تو نے الحمد للہ کہا ہے
حدیث نمبر: 936
حَدَّثَنَا عَارِمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي مَكْحُولٌ الأَزْدِيُّ قَالَ: كُنْتُ إِلَى جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ، فَعَطَسَ رَجُلٌ مِنْ نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ إِنْ كُنْتَ حَمِدْتَ اللَّهَ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
مکحول ازدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پہلو میں بیٹھا تھا کہ مسجد کے کونے میں بیٹھے ایک شخص کو چھینک آئی تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: «يرحمك الله» اگر تو نے «الحمد للہ» کہا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس روایت کی سند ضعیف ہے اس میں عمارہ بن زاذان راوی ضعیف ہے۔ اور مرفوع احادیث میں صراحت ہے کہ چھینک سننے والے کے ذمے جواب دینا لازم ہے اور جو الحمد للہ نہ سنے اسے جواب دینا لازم نہیں۔
اس روایت کی سند ضعیف ہے اس میں عمارہ بن زاذان راوی ضعیف ہے۔ اور مرفوع احادیث میں صراحت ہے کہ چھینک سننے والے کے ذمے جواب دینا لازم ہے اور جو الحمد للہ نہ سنے اسے جواب دینا لازم نہیں۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 936 سے ماخوذ ہے۔