الادب المفرد
كتاب العطاس والتثاؤب— كتاب العطاس والتثاؤب
بَابُ كَيْفَ يَبْدَأُ الْعَاطِسُ باب: چھینکے والا شروع میں کیا ہے؟
حدیث نمبر: 934
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلِ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَلْيَقُلْ مَنْ يَرُدُّ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، وَلْيَقُلْ هُوَ: يَغْفِرُ اللَّهُ لِي وَلَكُمْ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو وہ «الحمد للہ رب العالمین» کہے، اور جو جواب دے وہ «يرحمك الله» کہے، پھر جسے چھینک آئی وہ کہے: «يغفر الله لي ولكم» اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو بھی معاف کر دے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
ان روایات سے معلوم ہوا کہ الحمد للہ کے ساتھ رب العالمین کے اضافے اور یهدیکم الله کی جگہ یغفرلنا ولکم کہنے کی گنجائش ہے، تاہم افضل اور راجح یہ ہے کہ جو کلمات مرفوعاً ثابت ہیں ان پر اکتفا کیا جائے۔
ان روایات سے معلوم ہوا کہ الحمد للہ کے ساتھ رب العالمین کے اضافے اور یهدیکم الله کی جگہ یغفرلنا ولکم کہنے کی گنجائش ہے، تاہم افضل اور راجح یہ ہے کہ جو کلمات مرفوعاً ثابت ہیں ان پر اکتفا کیا جائے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 934 سے ماخوذ ہے۔