حدیث نمبر: 932
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلامٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ هُوَ أَخُو ابْنِ عُلَيَّةَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ‏:‏ جَلَسَ رَجُلاَنِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدُهُمَا أَشْرَفُ مِنَ الْآخَرِ، فَعَطَسَ الشَّرِيفُ مِنْهُمَا فَلَمْ يَحْمَدِ اللَّهَ، وَلَمْ يُشَمِّتْهُ، وَعَطَسَ الْآخَرُ فَحَمِدَ اللَّهَ، فَشَمَّتَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ الشَّرِيفُ‏:‏ عَطَسْتُ عِنْدَكَ فَلَمْ تُشَمِّتْنِي، وَعَطَسَ هَذَا الْآخَرُ فَشَمَّتَّهُ، فَقَالَ‏:‏ ”إِنَّ هَذَا ذَكَرَ اللَّهَ فَذَكَرْتُهُ، وَأَنْتَ نَسِيتَ اللَّهَ فَنَسِيتُكَ‏.“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمی بیٹھے جن میں سے ایک دوسرے سے زیادہ معزز تھا۔ ان میں سے جو معزز تھا اسے چھینک آئی اور اس نے «الحمد لله» نہ کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جواب نہ دیا۔ دوسرے کو چھینک آئی اور اس نے «الحمد للہ» کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے «يرحمك الله» کہا۔ اس پر اس معزز آدمی نے کہا: میں نے آپ کے پاس چھینک لی تو آپ نے مجھے جواب نہیں دیا۔ اور اس کو آپ نے جواب دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے اللہ کو یاد کیا تو میں نے بھی اسے یاد کیا، اور تم اللہ کو بھول گئے تو میں نے بھی تمہیں بھلا دیا۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب العطاس والتثاؤب / حدیث: 932
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث «حسن : »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
مطلب یہ ہے کہ تو نے اللہ کا ذکر ترک کر دیا جبکہ تجھے اللہ کا ذکر کرنا چاہیے تھا اس لیے دعا کا مستحق نہیں رہا باوجود اس کے کہ تو دنیاوی طور پر اس دوسرے سے معزز تھا۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 932 سے ماخوذ ہے۔