الادب المفرد
كتاب العطاس والتثاؤب— كتاب العطاس والتثاؤب
بَابُ كَيْفَ تَشْمِيتُ مَنْ سَمِعَ الْعَطْسَةَ باب: چھینک سننے والا کیسے جواب دے
حدیث نمبر: 929
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ إِذَا شُمِّتَ: عَافَانَا اللَّهُ وَإِيَّاكُمْ مِنَ النَّارِ، يَرْحَمُكُمُ اللَّهُ.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
ابو جمرہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو چھینک کے جواب میں یہ فرماتے ہوئے سنا: «عافانا الله وإياكم من النار، يرحمكم الله»۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اور تمہیں آگ سے بچائے اور اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے اس جملے کی تائید کسی صحیح مرفوع روایت سے نہیں ہوتی اس لیے مسنون جواب پر اکتفا کرنا بہتر ہے۔ غالباً سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما یہ جملے ہمیشہ نہیں کہتے تھے۔ پھر ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک شخص کو منع کرنا بھی ثابت ہے جس نے الحمد للہ والسلام علی رسول اللہ کہا تھا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے اس جملے کی تائید کسی صحیح مرفوع روایت سے نہیں ہوتی اس لیے مسنون جواب پر اکتفا کرنا بہتر ہے۔ غالباً سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما یہ جملے ہمیشہ نہیں کہتے تھے۔ پھر ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک شخص کو منع کرنا بھی ثابت ہے جس نے الحمد للہ والسلام علی رسول اللہ کہا تھا۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 929 سے ماخوذ ہے۔