حدیث نمبر: 927
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏: ”إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلِ‏:‏ الْحَمْدُ لِلَّهِ، فَإِذَا قَالَ‏:‏ الْحَمْدُ لِلَّهِ، فَلْيَقُلْ لَهُ أَخُوهُ أَوْ صَاحِبُهُ‏:‏ يَرْحَمُكَ اللَّهُ، وَلْيَقُلْ هُوَ‏:‏ يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ‏.“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو وہ «الحمد للہ» کہے، جب وہ «الحمد للہ» کہے تو اس کا بھائی یا ساتھی «يرحمك الله» کہے، اور جسے چھینک آئی وہ یہ کہے: «يهديكم الله ويصلح بالكم» (اللہ تعالیٰ تیری رہنمائی کرے اور تیری حالت درست کر دے)۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب العطاس والتثاؤب / حدیث: 927
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : انظر الحديث ، رقم : 921»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
چھینک سے متعلقہ احکام گزشتہ صفحات میں گزر چکے ہیں۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 927 سے ماخوذ ہے۔