الادب المفرد
كتاب العطاس والتثاؤب— كتاب العطاس والتثاؤب
بَابُ مَنْ سَمِعَ الْعَطْسَةَ يَقُولُ : الْحَمْدُ لِلّٰهِ باب: جو چھینک سن کر الحمد للہ کہے
حدیث نمبر: 926
حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَنْ قَالَ عِنْدَ عَطْسَةٍ سَمِعَهَا: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ عَلَى كُلِّ حَالٍ مَا كَانَ، لَمْ يَجِدْ وَجَعَ الضِّرْسِ وَلا الأُذُنٍ أَبَدًا.ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جس نے چھینک سن کر کہا: ہر حال میں جیسا بھی ہے اللہ رب العالمین کا شکر ہے، تو اسے کبھی داڑھ اور کان کا درد نہیں ہوگا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس روایت کی سند مرفوعاً اور موقوفاً دونوں طرح ضعیف ہے۔ اس کی سند میں ابو اسحاق سبیعی مدلس ہے اور وہ عَنْ کے ساتھ بیان کر رہا ہے۔ اس لیے یہ حدیث ضعیف ہے۔
اس روایت کی سند مرفوعاً اور موقوفاً دونوں طرح ضعیف ہے۔ اس کی سند میں ابو اسحاق سبیعی مدلس ہے اور وہ عَنْ کے ساتھ بیان کر رہا ہے۔ اس لیے یہ حدیث ضعیف ہے۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 926 سے ماخوذ ہے۔