حدیث نمبر: 925
وَعَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏: ”حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ سِتٌّ“، قِيلَ‏:‏ مَا هِيَ يَا رَسُولَ اللهِ‏؟‏ قَالَ‏: ”إِذَا لَقِيتَهُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ، وَإِذَا دَعَاكَ فَأَجِبْهُ، وَإِذَا اسْتَنْصَحَكَ فَانْصَحْ لَهُ، وَإِذَا عَطَسَ فَحَمِدَ اللَّهَ فَشَمِّتْهُ، وَإِذَا مَرِضَ تَعُودُهُ، وَإِذَا مَاتَ فَاتَّبِعْهُ‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حق ہیں۔“ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کون کون سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اس سے ملو تو اسے سلام کرو، جب وہ تمہیں دعوت دے تو اس کی دعوت قبول کرو، جب تم سے نصیحت طلب کرے تو اس کی خیر خواہی کرو، جب اسے چھینک آئے اور وہ «الحمد للہ» کہے تو اس کی چھینک کا جواب دو، جب وہ بیمار ہو جائے تو اس کی تیمار داری کرو اور جب مرجائے تو اس کا جنازہ پڑھو۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب العطاس والتثاؤب / حدیث: 925
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه مسلم ، كتاب السلام ، باب من حق المسلم للمسلم رد السلام : 2162 - الصحيحة : 1832»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
اس روایت میں صراحت ہے کہ چھینک لینے والا اگر الحمد للہ کہے تو اس کا جواب دینا ضروری ہے۔ ’’مسلمان کے مسلمان کے ذمہ چھ حقوق ہیں‘‘ اس سے ان کا وجوب واضح ہوتا ہے۔ پھر اس جگہ زیادہ تر امر کے صیغے آ رہے ہیں اور امر کا اصل یہ ہے کہ اس سے وجوب ثابت ہوتا ہے۔ ہاں قرینہ صارفہ ہو تو الگ بات ہے اور اس جگہ ایسا کوئی قرینہ نہیں۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 925 سے ماخوذ ہے۔