حدیث نمبر: 923
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ حَكِيمِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”أَرْبَعٌ لِلْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ‏:‏ يَعُودُهُ إِذَا مَرِضَ، وَيَشْهَدُهُ إِذَا مَاتَ، وَيُجِيبُهُ إِذَا دَعَاهُ، وَيُشَمِّتُهُ إِذَا عَطَسَ‏.‏“
ترجمہ:مولانا عثمان منیب

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کے مسلمان پر چار حق ہیں: جب وہ بیمار ہو تو اس کی تیمار داری کرے، جب وہ فوت ہو جائے تو اس کے جنازے میں شریک ہو، جب وہ دعوت دے تو اس کی دعوت قبول کرے، اور جب اسے چھینک آئے تو اس کا جواب دے۔“

حوالہ حدیث الادب المفرد / كتاب العطاس والتثاؤب / حدیث: 923
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث «صحيح : أخرجه ابن ماجه ، كتاب الجنائز ، باب ماجاء فى عيادة المريض : 1434 - أنظر الصحيحة : 2154»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
بعض روایات میں چھ حقوق کا ذکر ہے اور یہاں چار کا اور اگلی روایت میں سات حقوق کا ذکر ہے تو اس میں کوئی تضاد نہیں کیونکہ ہر ایک نے اپنے علم کے مطابق ذکر کیا ہے کہ کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار کا ذکر فرمایا، کبھی چھ کا اور کبھی زیادہ کا ہر ایک نے جو سنا بیان کر دیا۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 923 سے ماخوذ ہے۔