حدیث نمبر: 919
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعُطَاسَ، وَيَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ، فَإِذَا عَطَسَ فَحَمِدَ اللَّهَ فَحَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ سَمِعَهُ أَنْ يُشَمِّتَهُ، وَأَمَّا التَّثَاؤُبُ فَإِنَّمَا هُوَ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَلْيَرُدَّهُ مَا اسْتَطَاعَ، فَإِذَا قَالَ: هَاهْ، ضَحِكَ مِنْهُ الشَّيْطَانُ.“ترجمہ:مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے، اور جماہی کو ناپسند کرتا ہے۔ جب کسی کو چھینک آئے اور وہ «الحمد للہ» کہے تو سننے والے ہر مسلمان پر حق ہے کہ اس کی چھینک کا جواب دے۔ اور جہاں تک جماہی کا تعلق ہے تو یہ خالصتاً شیطان کی طرف سے ہے۔ اس لیے اسے ہر ممکن روکنے کی کوشش کی جائے۔ جماہی آنے پر جب بندہ ”ہا“ کہتا ہے تو اس پر شیطان ہنستا ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ مولانا عثمان منیب
1
فوائد ومسائل:
(۱)مسلمانوں کے باہمی حقوق میں یہ بات شامل ہے کہ جب کسی شخص کو چھینک آئے اور وہ زکام یا کسی بیماری کی وجہ سے نہ ہو اور چھینکنے والا الحمد للہ بھی کہے تو سننے والے پر فرض ہے کہ وہ یَرْحَمُکَ اللّٰہ کے ساتھ جواب دے اور جسے چھینک آئی ہے وہ پھر جواباً یَھْدِیکم اللّٰہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ کہے۔
(۲) جماہی سستی اور کاہلی کی علامت ہے جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے۔ اس لیے اسے ہر ممکن روکنے کی کوشش کرنی چاہیے اور ایک حدیث میں اس کا طریقہ یہ بتایا گیا ہے کہ منہ پر ہاتھ رکھ لیا جائے۔ نماز میں خصوصی طور پر اس کو روکنے کی بھر پور کوشش کرنی چاہیے۔
(۳) نماز میں کسی کو چھینک آئے تو وہ الحمد للہ کہہ سکتا ہے کیونکہ نماز تسبیح و تحمید ہی کا نام ہے، البتہ کسی کو چھینک کا جواب دینا درست نہیں کیونکہ یہ لوگوں کا کلام ہے جو نماز میں درست نہیں۔
(۱)مسلمانوں کے باہمی حقوق میں یہ بات شامل ہے کہ جب کسی شخص کو چھینک آئے اور وہ زکام یا کسی بیماری کی وجہ سے نہ ہو اور چھینکنے والا الحمد للہ بھی کہے تو سننے والے پر فرض ہے کہ وہ یَرْحَمُکَ اللّٰہ کے ساتھ جواب دے اور جسے چھینک آئی ہے وہ پھر جواباً یَھْدِیکم اللّٰہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ کہے۔
(۲) جماہی سستی اور کاہلی کی علامت ہے جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے۔ اس لیے اسے ہر ممکن روکنے کی کوشش کرنی چاہیے اور ایک حدیث میں اس کا طریقہ یہ بتایا گیا ہے کہ منہ پر ہاتھ رکھ لیا جائے۔ نماز میں خصوصی طور پر اس کو روکنے کی بھر پور کوشش کرنی چاہیے۔
(۳) نماز میں کسی کو چھینک آئے تو وہ الحمد للہ کہہ سکتا ہے کیونکہ نماز تسبیح و تحمید ہی کا نام ہے، البتہ کسی کو چھینک کا جواب دینا درست نہیں کیونکہ یہ لوگوں کا کلام ہے جو نماز میں درست نہیں۔
درج بالا اقتباس فضل اللہ الاحد اردو شرح الادب المفرد، حدیث/صفحہ نمبر: 919 سے ماخوذ ہے۔